زیادہ کھانے کی اصل وجہ کیا ہے؟ نئی تحقیق نے دلچسپ حقیقت بتا دی

0
29
زیادہ کھانے کی اصل وجہ کیا ہے؟ نئی تحقیق نے دلچسپ حقیقت بتا دی

حالیہ تحقیق میں زیادہ کھانے اور موٹاپے کے بارے میں عام تصور کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف کھانے کی لذت یا خود پر قابو کی کمی نہیں، بلکہ کھانے کے دوران توجہ اور جسم کے اندرونی اشاروں کو نظر انداز کرنا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
تحقیق کے مطابق جب انسان جلد بازی میں یا غیر توجہ کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ اپنے پیٹ بھرنے کے قدرتی احساس کو صحیح طور پر محسوس نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیا جاتا ہے۔ اس عمل میں خاص طور پر پروسیسڈ اور مصنوعی غذائیں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو وقت کے ساتھ جسم کے بھوک اور پیٹ بھرنے کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ماہرین بھوک کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: ایک جسمانی بھوک جو توانائی کی ضرورت کے باعث پیدا ہوتی ہے، جبکہ دوسری ایسی بھوک ہے جو ماحول، خوشبو، اشتہارات یا جذباتی کیفیت سے متاثر ہو کر پیدا ہوتی ہے۔ اسے بعض اوقات “ہیڈونک بھوک” بھی کہا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، اسٹریس، سوشل میڈیا اور اشتہارات لوگوں کو غیر ضروری طور پر کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں، چاہے جسم کو واقعی خوراک کی ضرورت نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق کھانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے توجہ اور سکون کے ساتھ کھایا جائے۔ آہستہ کھانے، اچھی طرح چبانے اور موبائل یا ٹی وی سے دور رہنے سے نہ صرف کھانے کا لطف بڑھتا ہے بلکہ مقدار بھی خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق جب انسان کھانے کے ذائقے اور تجربے پر مکمل توجہ دیتا ہے تو وہ کم مقدار میں بھی زیادہ تسکین محسوس کرتا ہے، جس سے غیر ضروری زیادہ کھانے کی عادت کم ہو سکتی ہے۔

Leave a reply