پنجاب حکومت کا آئندہ بجٹ ٹیکس فری رکھنے اور ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے کا امکان

0
11
پنجاب حکومت کا آئندہ بجٹ ٹیکس فری رکھنے اور ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے کا امکان

لاہور: پنجاب حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو ٹیکس فری رکھنے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ بجٹ میں عوامی ریلیف، ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل اور مختلف فلاحی پروگراموں کو ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کا ہدف تقریباً 712 ارب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس ہوگا، جس سے 320 ارب روپے سے زائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

بجٹ تجاویز میں کسانوں، طلبہ اور مزدوروں کے لیے جاری امدادی پروگرام برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زرعی شعبے کی بہتری کے لیے ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، معیاری بیج اور کھاد پر سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ کاشتکاروں کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔

محصولات کے دیگر ذرائع میں ایکسائز ڈیوٹی سے 128 ارب روپے، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے، موٹر وہیکل ٹیکس سے 47 ارب روپے اور بجلی سے متعلق ٹیکسز و ڈیوٹیز سے 35.2 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ لینڈ ریونیو کی مد میں تقریباً 1.7 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔

ترقیاتی اخراجات کے لیے 1452 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 550 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

بلدیاتی اداروں کو مزید بااختیار بنانے کے منصوبے کے تحت ان کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 156 ارب روپے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یونین کونسل سطح پر سیوریج اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ بجٹ میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے 303 ارب روپے اور مثالی گاؤں پروگرام کے لیے 30 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ جنوبی پنجاب کے لیے ترقیاتی فنڈز کا 35 فیصد حصہ مختص رکھنے کی پالیسی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا ہدف عوامی ریلیف، زرعی و تعلیمی شعبوں کی معاونت اور صوبے بھر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

Leave a reply