
ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ وزن کم کرنا جتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق اگر لوگ روزانہ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی عادت اپنالیں تو وہ دوبارہ موٹاپے سے کافی حد تک بچ سکتے ہیں۔
عام طور پر روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کو صحت مند زندگی اور وزن کم کرنے کے لیے بہترین ہدف سمجھا جاتا ہے، تاہم بہت سے افراد کے لیے روزانہ اتنا چلنا وقت اور مصروف طرزِ زندگی کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتا۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 10 ہزار قدموں سے کم چلنے کے باوجود بھی صحت کے نمایاں فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنا وزن کم ہونے کے بعد اسے برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
یہ تحقیق ترکی کے شہر Istanbul میں موٹاپے سے متعلق منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی۔ ماہرین نے بتایا کہ وزن کم کرنے والے تقریباً 80 فیصد افراد اگلے چند برسوں میں دوبارہ وزن بڑھنے کا سامنا کرتے ہیں۔
تحقیق میں تین ہزار سات سو سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق وزن کم ہونے کے بعد جسم کا میٹابولزم نسبتاً سست ہو جاتا ہے، جس کے باعث جسم دوبارہ چربی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں غذا اور کیلوریز میں کمی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی، خصوصاً پیدل چلنا، نہایت اہم ہو جاتا ہے۔
محققین کے مطابق وہ افراد جنہوں نے ڈائٹنگ کے بعد روزانہ 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو معمول بنایا، وہ دوسروں کے مقابلے میں اوسطاً تین کلوگرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم تقریباً ساڑھے تین سے چار میل کے برابر ہوتے ہیں، جنہیں ایک عام رفتار رکھنے والا شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ تمام قدم ایک ہی وقت میں مکمل کیے جائیں۔ صبح کی واک، دفتر کے دوران مختصر چہل قدمی اور رات کے کھانے کے بعد واک ملا کر بھی یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈائٹنگ وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن پیدل چلنے کی مستقل عادت وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک آسان، مؤثر اور کم خرچ طریقہ ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ چلنے کو وقتی ورزش کے بجائے مستقل طرزِ زندگی بنایا جائے تاکہ نہ صرف وزن قابو میں رہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول اور ذہنی دباؤ میں بھی بہتری آئے۔








