ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امرود مفید، پتوں کی چائے بھی توجہ کا مرکز

0
38
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امرود مفید، پتوں کی چائے بھی توجہ کا مرکز

اسلام آباد: امرود غذائیت سے بھرپور پھل ہے، جس میں وٹامن سی، فائبر اور دیگر مفید اجزا پائے جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض بھی مناسب مقدار میں امرود کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں، تاہم انہیں اپنی غذا اور بلڈ شوگر کی سطح پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

طبی و غذائی معلومات کے مطابق امرود کے پتوں میں پولی فینولز اور کوئرسیٹن جیسے قدرتی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ بعض تحقیقی مطالعات میں ان مرکبات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے، جن سے اشارہ ملتا ہے کہ امرود کے پتوں کا عرق کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، اسے ذیابیطس کا باقاعدہ علاج قرار دینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

امرود کے پتوں کی چائے کیسے تیار کریں؟

اس چائے کی تیاری کے لیے صاف اور تازہ امرود کے چند پتے اچھی طرح دھو کر تقریباً آدھا لیٹر پانی میں دس سے پندرہ منٹ تک ابالیں۔ بعد ازاں پانی چھان کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذائقے کے لیے چینی یا شہد شامل کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ بلڈ شوگر میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کو اس چائے کے باقاعدہ استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، خصوصاً اگر وہ شوگر کم کرنے والی ادویات لے رہے ہوں۔ پتوں کی چائے کے محفوظ استعمال اور مناسب مقدار کے بارے میں شواہد ابھی محدود ہیں۔

امرود چھلکے سمیت کھانا بہتر ہے؟

امرود کے چھلکے میں بھی فائبر اور دیگر غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اسے اچھی طرح دھو کر چھلکے سمیت کھایا جا سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ امرود کا چھلکا ہر شخص میں بلڈ شوگر اچانک بڑھا دے۔ اس کا اثر پھل کی مقدار، پختگی اور جسمانی ردعمل کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

کتنی مقدار مناسب ہے؟

تقریباً 100 سے 150 گرام امرود بعض افراد کے لیے مناسب مقدار ہو سکتی ہے، لیکن درست مقدار ہر مریض کی غذائی ضروریات اور شوگر کنٹرول کے مطابق طے ہونی چاہیے۔ جوس کے مقابلے میں پورا پھل کھانا بہتر انتخاب ہے، کیونکہ اس میں فائبر برقرار رہتا ہے۔

اہم ہدایت: امرود اور اس کے پتوں کو متوازن غذا کا حصہ سمجھیں، ذیابیطس کی ادویات کا متبادل نہیں۔ اپنی خوراک میں تبدیلی سے پہلے معالج یا ماہر غذائیت سے رہنمائی ضرور لیں۔

Leave a reply