
دنیا میں شرحِ پیدائش میں کمی: کیا اسمارٹ فونز بھی ایک وجہ بن رہے ہیں؟
دنیا کے مختلف ممالک میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، اور ماہرین اس کی وجوہات پر مزید گہری تحقیق کر رہے ہیں۔ روایتی طور پر مہنگائی، رہائشی اخراجات میں اضافہ، تاخیر سے شادیاں اور کیریئر کے دباؤ کو اس کمی کی بڑی وجوہات سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم اب ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا، اس رجحان پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بعض حالیہ مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن علاقوں میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز جلد عام ہوئے، وہاں شرحِ پیدائش میں کمی بھی نسبتاً جلد شروع ہوئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے لوگوں کے میل جول اور سماجی رویوں کو تبدیل کیا ہے، جس کے باعث آمنے سامنے ملاقاتوں اور روایتی تعلقات میں کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق نوجوان زیادہ وقت آن لائن سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، جس سے نہ صرف سماجی روابط بدل رہے ہیں بلکہ طویل المدتی رشتوں کے قیام پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ کچھ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی “مثالی زندگیوں” کو دیکھنے سے ذہنی دباؤ، عدم تحفظ اور مالی خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ خاندان شروع کرنے کے فیصلے کو مؤخر کر دیتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ 2000 کی دہائی کے بعد، خاص طور پر اسمارٹ فونز کے عام ہونے کے بعد، کئی ترقی یافتہ ممالک میں شرحِ پیدائش میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ صرف ایک وجہ نہیں ہے، لیکن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی موجودہ معاشی اور سماجی دباؤ کو مزید بڑھا کر اس رجحان کو تیز کر سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبادی میں کمی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں معاشی، سماجی اور ٹیکنالوجی سے متعلق عوامل سب شامل ہیں، اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔









