
بعض اوقات انسان کا خود سے باتیں کرنا دوسروں کو عجیب محسوس ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ہر قسم کی خودکلامی کو منفی رویہ سمجھنا درست نہیں۔ مناسب انداز میں خود سے گفتگو کرنا سوچ کو منظم کرنے، توجہ برقرار رکھنے اور روزمرہ کے کاموں پر بہتر توجہ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقی شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خودکلامی بعض حالات میں چیزوں کو پہچاننے اور ذہنی توجہ مرکوز کرنے کے عمل کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے خیالات کو الفاظ میں بیان کرنا انسان کو اپنے جذبات، فیصلوں اور رویوں کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تاہم خودکلامی کا انداز اہم ہے۔ اگر انسان خود سے مثبت اور حوصلہ افزا گفتگو کرے تو اس کے فوائد زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں، جبکہ مسلسل خود کو برا بھلا کہنا یا منفی تنقید کرنا ذہنی کیفیت پر الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص کبھی کبھار خود سے بات کرتا ہے تو اسے محض عجیب عادت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مناسب اور مثبت خودکلامی دراصل خیالات کو ترتیب دینے اور مسائل پر غور کرنے کا ایک فطری طریقہ بھی ہو سکتی ہے۔








