جوہری پروگرام: واشنگٹن 20 سالہ پابندی پر مصر، ایران 5 سال پر تیار

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم کی افزودگی پر پابندی کی مدت ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی معطل رکھنی چاہیے، جبکہ ایران اس پابندی کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک محدود رکھنے پر آمادہ ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران کو نہ صرف ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرنا چاہیے بلکہ ایسی تمام صلاحیتوں سے بھی دستبردار ہونا ہوگا جو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
یورینیم ایک قدرتی تابکار عنصر ہے جو زمین میں پایا جاتا ہے۔ اسے مختلف صنعتی اور توانائی کے مقاصد کے لیے افزودہ کیا جاتا ہے، خاص طور پر بجلی پیدا کرنے والے ری ایکٹرز میں۔
قدرتی یورینیم میں موجود ایک اہم جزو “یورینیم-235” انتہائی کم مقدار میں پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری اداروں کے مطابق افزودگی کے عمل میں اسی جز کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے۔
عام طور پر کم سطح (20 فیصد سے کم) کی افزودگی کو توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ 90 فیصد کے قریب افزودگی کو ہتھیار بنانے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران جدید سینٹری فیوجز کے ذریعے گیس کی شکل میں یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کے پاس بڑی مقدار میں ایسا مواد موجود ہے جو پہلے ہی 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز عمل ہو سکتا ہے، اور اس مقدار کو نظریاتی طور پر متعدد جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق 60 فیصد افزودہ یورینیم کا ایک حصہ اب بھی مختلف زیرِ زمین تنصیبات میں موجود ہو سکتا ہے، تاہم حالیہ واقعات اور حملوں کے بعد اس کی موجودہ صورتحال واضح نہیں۔
امریکا اور اس کے اتحادی طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم کا الزام لگاتے رہے ہیں، جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو مکمل طور پر پرامن قرار دیتا ہے۔
2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے پروگرام پر کچھ پابندیاں قبول کی تھیں، تاہم 2018 میں امریکا کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔
موجودہ دور میں امریکا کی جانب سے سخت مؤقف اپنایا گیا ہے اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کو طویل المدتی طور پر محدود کرنے کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب ایران مختصر مدت کی پابندی پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے، جس کے باعث مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اختلاف زیادہ تر تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے، اور دونوں ممالک اپنی داخلی سیاست کے تناظر میں سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی مدت کا اختلاف ہے، جس پر فریقین ابھی تک کسی درمیانی راستے پر متفق نہیں ہو سکے۔
پاکستان اس تعطل کو ختم کرنے اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔








