اے سی چلانے پر ایم ایس معطل، وزیرِ صحت کے رویے پر ڈاکٹرز برادری بھڑک اٹھی

سیالکوٹ: پنجاب کے تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال پسرور میں صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر کے اچانک دورے کے بعد اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کے خلاف کی گئی کارروائی پر طبی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
دورے کے دوران وزیر نے ایڈمن بلاک کے بعض خالی کمروں میں ایئر کنڈیشنرز چلتے دیکھے اور سرکاری ہدایات کے برعکس درجہ حرارت مقررہ حد سے کم ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موقع پر ہی متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی، جبکہ اس موقع کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
واقعے کے بعد مختلف ڈاکٹر تنظیموں اور طبی ماہرین نے وزیر کے طرزِ عمل پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر انتظامی بے ضابطگی موجود تھی تو قانونی اور محکمانہ طریقہ کار کے تحت کارروائی کی جا سکتی تھی، تاہم کسی افسر کی عوامی سطح پر سرزنش کرنا مناسب نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ضابطہ کار پر عمل ہونا چاہیے، جبکہ بعض دیگر نے اسپتالوں کی مجموعی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی بحث کی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں اچانک دوروں کے دوران مریضوں کی رازداری، علاج کے ماحول اور پیشہ ورانہ احترام کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صحت کے نظام میں بہتری کے لیے انتظامی اصلاحات اور طبی ماہرین کی مشاورت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ہدایت پر سرکاری اسپتالوں کے دورے کیے جا رہے ہیں تاکہ انتظامی خامیوں کی نشاندہی اور مریضوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق سرکاری دفاتر میں بجلی کی بچت کے لیے اے سی کا درجہ حرارت مقررہ حد سے نیچے رکھنے کی اجازت نہیں، اس لیے خلاف ورزی پر کارروائی ضروری تھی۔
وزیر نے اسپتال کے معائنے کے دوران بعض دیگر مسائل کا بھی نوٹس لیا، جن میں مریضوں کے لیے ایمبولینس کی دستیابی، ادویات کے اسٹور روم میں مناسب درجہ حرارت برقرار رکھنے کے انتظامات، اور صفائی و سیکیورٹی عملے کی زیرِ التوا تنخواہیں شامل تھیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ان معاملات کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔
یہ واقعہ انتظامی احتساب، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکاری ملازمین کے ساتھ پیشہ ورانہ رویے کے حوالے سے ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔








