نیٹ فلکس پر پاکستانی ڈراموں کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ فیصل قریشی نے کھل کر بات کی

0
8
نیٹ فلکس پر پاکستانی ڈراموں کی راہ میں کیا رکاوٹ ہے؟ فیصل قریشی نے کھل کر بات کی

اسلام آباد: پاکستانی اداکار فیصل قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، خصوصاً نیٹ فلکس، پر محدود موجودگی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں علاقائی مارکیٹ کا اثر، مقامی مواد کی نوعیت اور کاروباری پہلو شامل ہیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی نے کہا کہ بھارتی مارکیٹ کا حجم اور مالی اہمیت نیٹ فلکس کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان سے پلیٹ فارم کو اتنی آمدنی حاصل نہیں ہوتی جتنی دیگر بڑی منڈیوں سے ملتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بہت سے صارفین مشترکہ سبسکرپشن استعمال کرتے ہیں، جس سے تجارتی امکانات محدود رہتے ہیں۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز ایسے موضوعات کو ترجیح دیتے ہیں جو معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کریں، جبکہ پاکستان میں بعض حساس موضوعات پر کام کرنا فلم سازوں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک بہتر رسائی دلانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی تخلیقی صنعت اعلیٰ معیار کی حامل ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر مزید مواقع ملنے چاہییں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نیٹ فلکس سمیت دیگر عالمی اسٹریمنگ کمپنیوں سے رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی مواد کو زیادہ مؤثر انداز میں عالمی ناظرین تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مقامی او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارم کے قیام پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد پاکستانی مواد کو براہِ راست عالمی منڈی تک پہنچانا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق یہ منصوبہ “اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت تخلیقی صنعت کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو عالمی پلیٹ فارمز پر زیادہ نمایاں مقام حاصل ہوگا۔
اس سے قبل فلم ساز مہرین جبار بھی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی مواد کی محدود نمائندگی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بہتری کی توقع ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس اوریجنل سیریز آئندہ برس کے دوران پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

Leave a reply