ایران کے خلاف پیجر طرز کی خفیہ کارروائی کا منصوبہ، سابق موساد اہلکار کا اہم دعویٰ

تل ابیب اور واشنگٹن کے پاس ایرانی عسکری قیادت کو نشانہ بنانے کی خفیہ حکمت عملی موجود ہے، خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے۔
اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کی صورت میں امریکا اور اسرائیل ایرانی عسکری قیادت کے خلاف حزب اللہ پر کیے گئے پیجر حملوں جیسی غیر معمولی کارروائی کر سکتے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے موساد کے سابق نائب سربراہ عوڈید ایلام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایسی خفیہ حکمت عملی اور آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے ایرانی حکومت کے اقتدار کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران میں فیصلہ سازی کا اصل اختیار منتخب سیاسی قیادت کے بجائے طاقتور عسکری حلقوں کے پاس ہے۔ انہوں نے پاسداران انقلاب، بسیج فورس اور دیگر اہم سکیورٹی اداروں کے سربراہان کو ایرانی اقتدار کے بنیادی مراکز قرار دیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہی عسکری قیادت امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور کسی نئے معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا میں بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سیاسی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جنگی منصوبوں کے نتیجے میں شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے بھی خطے میں ممکنہ کشیدگی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
ادھر سابق امریکی جنرل جیک کین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں اس کے جوہری پروگرام، توانائی کے شعبے اور میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے سابق میجر جنرل یعقوب عامیدرور نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسرائیل ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا جواز پیش کر سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران پر کسی نئے امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں تہران کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کا امکان موجود ہے، جس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک وسیع علاقائی تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی بحری سرگرمیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کی عسکری تیاریوں کو ممکنہ تصادم کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت کے خلاف پیجر طرز کی کارروائی سے متعلق یہ دعویٰ سابق موساد عہدیدار سے منسوب ہے؛ اسے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے تصدیق شدہ فوجی منصوبہ نہیں سمجھنا چاہیے۔









