
جنوبی وزیرستان: خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگوراڈہ میں افغان جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افغان سرحدی پوسٹوں اور دفاعی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق یکم نومبر کو افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔
انتظامیہ کے مطابق کارروائی کے دوران افغان سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دیگر دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فورسز کی مؤثر کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی بعض پوسٹیں چھوڑ کر چلے گئے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق واقعے میں پاکستانی حدود کے اندر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ انگوراڈہ سیکٹر میں 27 اکتوبر کو بھی فائرنگ اور مارٹر گولہ باری کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں ایک مارٹر گولہ آبادی میں واقع گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد بھی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے 28 اکتوبر کو اس واقعے سے متعلق افغان طالبان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی حدود میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے فیکٹ چیک کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی سات پوسٹیں تباہ کی گئی تھیں۔
بعد ازاں 30 اکتوبر کو بھی پاکستانی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج سرحدی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے چوکس ہیں۔









