ایران پر ممکنہ حملہ: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات سامنے آگئے

0
32
ایران پر ممکنہ حملہ: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات سامنے آگئے

امریکی صدر سفارت کاری کو مزید وقت دینے کے خواہاں، اسرائیلی وزیراعظم نے وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائی پر زور دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں ممالک کی حکمت عملی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں تاخیر نہ کرنے کا مشورہ دیا اور زور دیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد حملے کیے جائیں۔

تاہم امریکی صدر فی الحال ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی فوجی اقدام سے پہلے سفارتی کوششوں کو مزید موقع دینے کے حامی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر پالیسی اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس گفتگو کو سخت نوعیت کا قرار دیا، جبکہ امریکی عہدیداروں نے اسے واضح اور براہِ راست تبادلہ خیال بتایا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف دینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور امریکا کو معاہدے کے لیے جلد بازی کرنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم انہوں نے ایرانی قیادت پر اعتماد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہوگا۔

ٹرمپ نے ایران کی بعض جوہری تنصیبات کے معاملے کو بھی اہم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ان اہداف کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ادھر قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ قطری حکام نے ایرانی قیادت سے مسلسل ملاقاتیں کی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ابھی تک امریکا کے ساتھ کوئی حتمی سمجھوتا نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار ایران کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر امریکی ردعمل سے ہوگا۔

عراقچی نے امید ظاہر کی کہ امریکا فوجی راستہ اختیار کرنے کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے گا۔

موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی امریکی خواہش اور اسرائیل کی جانب سے سخت مؤقف خطے میں آئندہ پیش رفت کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

Leave a reply