
انڈا غذائیت سے بھرپور غذا تصور کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں ناشتے سمیت مختلف کھانوں میں بڑے شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں انڈے کے کولیسٹرول سے متعلق مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں، تاہم جدید طبی تحقیقات کے مطابق صحت مند افراد کے لیے مناسب مقدار میں انڈے کھانا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق ایک درمیانے سائز کے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام معیاری پروٹین موجود ہوتا ہے، جبکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام اہم امائنو ایسڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، وٹامن اے، وٹامن ای، سیلینیم اور کولین جیسے اہم غذائی اجزا بھی انڈے میں پائے جاتے ہیں، جو دماغ، آنکھوں اور ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے کی زردی کو غیر ضروری سمجھ کر نکال دینا درست نہیں، کیونکہ غذائیت کا بڑا حصہ اسی میں موجود ہوتا ہے۔
روزانہ کتنے انڈے کھانے چاہییں، اس کا انحصار ہر فرد کی عمر، صحت اور طرزِ زندگی پر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ایک صحت مند بالغ فرد متوازن غذا کے ساتھ روزانہ ایک انڈا کھا سکتا ہے، جبکہ بچوں کی نشوونما کے لیے بھی روزانہ ایک انڈا مفید قرار دیا جاتا ہے۔ البتہ دل کے امراض یا بلند کولیسٹرول کے شکار افراد کو اپنی خوراک کے بارے میں ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق انڈے کو ابال کر یا کم تیل میں پکا کر کھانا زیادہ صحت بخش طریقہ ہے، جبکہ اسے سبزیوں، دلیے یا دیگر فائبر والی غذاؤں کے ساتھ استعمال کرنے سے متوازن غذا حاصل ہوتی ہے۔ کچا انڈا کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں جراثیم کی موجودگی کا خطرہ رہتا ہے اور پکا ہوا انڈا نسبتاً آسانی سے ہضم ہوتا ہے۔
صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی غذا کی طرح انڈے کا بھی ضرورت سے زیادہ استعمال مناسب نہیں۔ اگر خوراک صرف انڈوں تک محدود ہو جائے اور دیگر غذائی ذرائع نظر انداز کیے جائیں تو غذائی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح فائبر کی کمی کے ساتھ زیادہ انڈے کھانے سے بعض افراد کو قبض یا پیٹ پھولنے جیسی شکایات بھی ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا اتفاق ہے کہ مناسب مقدار میں اور متوازن غذا کے حصے کے طور پر انڈے کا استعمال زیادہ تر افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کی غذائی افادیت برقرار رکھنے کے لیے صحت مند طریقے سے پکانا اور متوازن خوراک کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔









