
گردے جسم سے فاضل مادوں کے اخراج، خون کی صفائی اور پانی و نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بعض مشروبات کا ضرورت سے زیادہ یا مسلسل استعمال گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جو پہلے ہی گردوں، ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کا شکار ہوں۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل مشروبات احتیاط سے استعمال کیے جانے چاہییں:
کاربونیٹڈ اور سافٹ ڈرنکس: ان میں شامل اضافی چینی، فرکٹوز اور دیگر اجزا موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جو بالواسطہ طور پر گردوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔
انرجی ڈرنکس: کیفین، شکر اور مصنوعی اجزا سے بھرپور یہ مشروبات زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے گردوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
الکحل: زیادہ مقدار میں الکحل جسم میں پانی کی کمی پیدا کر سکتی ہے، جس سے گردوں کے معمول کے افعال متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اسپورٹس ڈرنکس: عام افراد کے لیے ان کا روزانہ استعمال ضروری نہیں۔ ان میں موجود سوڈیم، شکر اور دیگر اجزا غیر ضروری مقدار میں جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
پیک شدہ پھلوں کے جوس: اگرچہ یہ غذائیت فراہم کرتے ہیں، تاہم کئی تجارتی جوسز میں اضافی چینی اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان کا اعتدال سے استعمال بہتر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کی صحت کے لیے ضروری ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ پانی پینے سے بھی بعض صورتوں میں جسم میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے، جسے ہائپوناٹریمیا کہا جاتا ہے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ متوازن غذا اختیار کی جائے، اضافی چینی اور مصنوعی اجزا والے مشروبات کا استعمال محدود رکھا جائے، اور اگر کسی شخص کو گردوں، ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو تو مشروبات کے انتخاب میں اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔
اگر مسلسل تھکن، جسم میں سوجن، پیشاب کی مقدار یا رنگ میں غیر معمولی تبدیلی، یا بلڈ پریشر میں اضافہ محسوس ہو تو بروقت طبی معائنہ کروانا ضروری ہے، کیونکہ گردوں کی بیماری کی جلد تشخیص مؤثر علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔









