عمان پر بمباری کی دھمکی کیوں؟ ہرمز میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے؟

خلیج عمان میں کشیدگی کے درمیان عمان ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تناؤ کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ صورتحال کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عمان اور ایران کے درمیان جاری بات چیت ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ بنا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اور خطے میں بحری نقل و حرکت کا معاملہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
عمان طویل عرصے سے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھنے والا ملک ہے اور متعدد مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مسقط امریکا کو اپنی بعض فوجی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے، جبکہ تہران کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات بھی برقرار ہیں۔
دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک ایسے طریقہ کار پر گفتگو کر رہے ہیں جس میں دونوں ساحلی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو مدنظر رکھا جائے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجودہ عدم استحکام بیرونی مداخلتوں کا نتیجہ ہے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔
عمان نے امریکی دھمکی پر اب تک کوئی نمایاں پالیسی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور معمول کی سفارتی و تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے یہاں طویل کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے امن بلکہ عالمی تیل اور ایندھن کی سپلائی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔









