امریکا سے بات چیت ختم یا نئی حکمت عملی شروع؟ ایران کے بیان نے سب کو چونکا دیا

0
0
امریکا سے بات چیت ختم یا نئی حکمت عملی شروع؟ ایران کے بیان نے سب کو چونکا دیا

تہران: ایران نے کہا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، جبکہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی کوئی تیاری نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق ایران کی توجہ مکمل طور پر قومی دفاع پر مرکوز ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث ایران نے بھی متعلقہ معاہدے کے تحت بعض ذمہ داریوں پر عمل روک دیا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق جب دوسرے فریق نے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی تو ایران نے بھی ان معاملات میں اپنی ذمہ داریوں کو معطل کر دیا جہاں ایسا کرنا ضروری سمجھا گیا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے خلاف مخالف قوتوں کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول امریکا کا مقصد ایرانی نظام پر دباؤ بڑھانا اور ملک کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسی قومی مفادات، سلامتی، حقیقت پسندی اور طویل المدتی حکمت عملی کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اگر کوئی مفاہمتی معاہدہ ایران کے مفاد میں نہ ہو تو اس پر عمل درآمد کی کوئی ضرورت نہیں، جبکہ مسلح افواج کو ملکی دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران اور امریکا کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دوسرا فریق اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔

Leave a reply