باب المندب پر خطرے کی گھنٹی، حوثیوں نے دنیا کو کیوں چونکا دیا؟

یمن میں سرگرم حوثی تحریک حالیہ عسکری اور سیاسی پیش رفت کے بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سعودی عرب پر میزائل حملوں، صنعا ایئرپورٹ سے متعلق تنازع اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
حوثی، جنہیں “انصار اللہ” بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن میں سرگرم ایک مذہبی، سیاسی اور مسلح تحریک ہے۔ اس گروہ کی بنیاد 1990 کی دہائی میں زیدی شیعہ برادری کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے رکھی گئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ تحریک یمنی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔
سن 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا۔ اگلے سال سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی، لیکن کئی برس کی لڑائی کے باوجود حوثی شمالی یمن کے بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
گزشتہ چند برسوں میں حوثیوں کی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق گروہ کے پاس بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی بھی موجود ہے، جس کے ذریعے وہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحیرہ احمر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد حوثیوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل کی سمت ڈرون و میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان اقدامات کے جواب میں امریکا اور اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی کارروائیاں کیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ باب المندب کی اہمیت عالمی تجارت کے لیے انتہائی زیادہ ہے، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اگر اس علاقے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سپلائی چین، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران اور حوثیوں کے تعلقات بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ ایران حوثیوں کی مختلف شعبوں میں مدد کرتا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دوسری جانب حوثی قیادت خود کو ایک خودمختار یمنی تحریک قرار دیتی ہے۔
حالیہ دنوں میں صنعا ایئرپورٹ سے متعلق پیش آنے والے واقعات اور سعودی عرب پر میزائل حملوں کے بعد خلیجی ممالک سمیت متعدد ریاستوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال میں مزید شدت آئی تو اس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔









