
اسلام آباد، لاہور اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے متعدد شہروں میں ہفتے کی شام زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تقریباً 191 کلومیٹر گہرائی میں واقع تھا۔
پنجاب میں لاہور، اٹک، حسن ابدال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، اوکاڑہ، ننکانہ صاحب، بھلوال، پھالیہ، شرقپور اور دیگر علاقوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں پشاور، مردان، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، صوابی، چارسدہ، بنوں، لوئر دیر، دیر بالا، باجوڑ، چترال اور لکی مروت سمیت مختلف شہروں میں بھی زلزلے کی اطلاع ملی۔
زلزلے کے دوران خیبرپختونخوا اسمبلی کا جاری اجلاس بھی کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا، جبکہ مختلف علاقوں میں لوگوں نے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کا رخ کیا۔
تاحال ان حالیہ جھٹکوں کے نتیجے میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی ایک ہی دن کے دوران متعدد زلزلے آئے تھے، جن میں ضلع موسیٰ خیل کے بعض علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچا تھا اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر خستہ حال عمارتوں میں جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔









