ایران جنگ: امریکی جنرل کا ٹرمپ کو کشیدگی کم کرنے اور تنازع ختم کرنے کا مشورہ

0
0
ایران جنگ: امریکی جنرل کا ٹرمپ کو کشیدگی کم کرنے اور تنازع ختم کرنے کا مشورہ

واشنگٹن: امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جاری تنازع میں مزید فوجی کارروائی سے گریز اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی نجی ملاقاتوں میں ایران کے خلاف طویل فوجی مہم کے ممکنہ نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان ملاقاتوں میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوجی قیادت کا خیال ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ مزید فوجی کارروائی سے محدود نتائج حاصل ہونے کے ساتھ ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران میں زمینی فوج اتارنے سے گریزاں ہے، تاہم اگر فضائی کارروائیاں مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو مزید فوجی اقدامات کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

امریکی حکام کو یہ تشویش بھی ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں فوجی سازوسامان کے ذخائر، خصوصاً فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر جدید ہتھیاروں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال امریکا کے لیے طویل عرصے تک فوجی کارروائی جاری رکھنا مشکل بنا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف مزید بڑے آپریشن کے ممکنہ خطرات سے بھی اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایرانی ردعمل میں خطے میں موجود امریکی اتحادیوں اور توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی امریکا کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خطرات سے خبردار کیا، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے مجوزہ بڑے فوجی آپریشن کو مؤخر کردیا۔

جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اگر صدر کی جانب سے کارروائی کا حکم دیا جاتا ہے تو امریکی فوج ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم طویل جنگ کے سیاسی اور عسکری اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ ایسے ممکنہ حل پر غور کر رہی ہے جسے صدر ٹرمپ داخلی سطح پر سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کا راستہ بھی برقرار رہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ غور ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش بھی شامل ہوسکتی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

Leave a reply