آم کو پانی میں بھگونا: روایت یا سائنسی ضرورت؟ ماہرین نے حقیقت بتا دی

0
14
آم کو پانی میں بھگونا: روایت یا سائنسی ضرورت؟ ماہرین نے حقیقت بتا دی

گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی بہار شروع ہو جاتی ہے اور چونسا، لنگڑا، سندھڑی اور انور رٹول جیسی اقسام ہر گھر کی پسند بن جاتی ہیں۔ آم اپنی لذیذ مٹھاس کے ساتھ ساتھ متعدد غذائی فوائد بھی رکھتا ہے، تاہم اسے کھانے سے پہلے پانی میں بھگونے کی روایت کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق آم وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کا اہم ذریعہ ہے، جو قوت مدافعت، بینائی اور مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ آم کو کچھ دیر پانی میں رکھنے سے اس کی “گرمی” کم ہو جاتی ہے اور مہاسوں، نکسیر یا ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دعووں کی تائید کے لیے واضح سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق آم کو پانی میں بھگونے کا سب سے نمایاں فائدہ صفائی سے متعلق ہے۔ باغات سے صارف تک پہنچنے کے دوران پھل پر دھول، مٹی اور دیگر آلودگیاں جمع ہو سکتی ہیں، جو پانی میں رکھنے اور دھونے سے بڑی حد تک صاف ہو جاتی ہیں۔

مزید یہ کہ آم کے چھلکے پر موجود قدرتی لیٹکس یا چپکنے والا مادہ بعض حساس افراد میں الرجی، گلے کی خراش یا کھانسی کا سبب بن سکتا ہے۔ پانی میں بھگونے سے یہ مادہ بھی کافی حد تک دور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چھلکے پر موجود بعض کیڑے مار ادویات کے اثرات کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کو پانی میں رکھنے یا نہ رکھنے سے اس کی غذائی اہمیت متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے وٹامنز، فائبر اور دیگر مفید اجزا اپنی حالت میں برقرار رہتے ہیں۔

صحت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ آم کھانے سے پہلے اسے صاف بہتے پانی سے اچھی طرح دھو لینا کافی ہے۔ البتہ جو افراد اضافی صفائی کو ترجیح دیتے ہیں یا لیٹکس سے حساس ہیں، ان کے لیے کچھ دیر پانی میں بھگونا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آم سے محفوظ اور بھرپور لطف اٹھانے کے لیے اعتدال کے ساتھ استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا اور پھل کو اچھی طرح دھونا بہترین طریقہ ہے۔

Leave a reply