
مظفرآباد: آزاد کشمیر میں حکام نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف مختلف قانونی اور انتظامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے، جبکہ متعلقہ ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کمیٹی کی قیادت اور متعلقہ افراد کے مالی معاملات، جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور امن و امان کے تناظر میں مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں مالی معاونت اور اثاثوں کی جانچ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر پولیس نے بعض سوشل میڈیا دعوؤں اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں سے علیحدگی اختیار کرنے والے افراد کو سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق کچھ افراد احتجاجی مقامات سے واپس اپنے آبائی علاقوں کو جانا چاہتے ہیں۔
پولیس ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض افراد کو احتجاج میں شرکت کے لیے ترغیب دی گئی، جبکہ احتجاج چھوڑنے والوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر راولاکوٹ میں ایک پولیس بکتر بند گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق فلیگ مارچ کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنایا، جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔









