امریکا۔ایران معاہدہ: ٹرمپ پُرامید، بیروت حملے کے بعد صورتحال پیچیدہ

0
12
امریکا۔ایران معاہدہ: ٹرمپ پُرامید، بیروت حملے کے بعد صورتحال پیچیدہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدہ بعض حالیہ علاقائی واقعات کے باوجود جلد طے پانے کی امید ہے۔ ان کے مطابق ایک اسرائیلی حملے کے باعث مذاکراتی عمل میں وقتی تاخیر ہوئی، تاہم معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ معاہدہ پہلے متوقع وقت پر نہیں ہو سکا، لیکن چند گھنٹوں کی تاخیر کے بعد پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی علاقے میں کی گئی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام اور پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ سے وابستہ بعض رہنماؤں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ایسے واقعات مذاکراتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں اور خطے میں استحکام کی کوششوں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ بعض ایرانی شخصیات نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ کسی معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے اپنے اتحادیوں کے اقدامات پر بھی توجہ دینی ہوگی۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اسرائیل اور اس کے مخالف گروہوں دونوں پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور ایسے اقدامات نہ کریں جو جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ممکنہ معاہدہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ لبنان سمیت پورے خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم معاہدے سے متعلق امریکی دعوؤں کے باوجود ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کسی حتمی پیش رفت یا دستخط کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اسی وجہ سے معاہدے کے امکانات اور اس کی تفصیلات بدستور غیر واضح ہیں۔

علاقائی صورتحال پر عالمی مبصرین کی نظر ہے اور آنے والے دنوں میں متعلقہ فریقین کے بیانات اس معاملے کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

Leave a reply