
بھارتی ہدایت کار نتیش تیواری کی آنے والی فلم ‘رامائن’ کے ٹریلر کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر فلم کے ملبوسات سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے۔ صارفین کی جانب سے خاص طور پر سیتا اور دیگر خواتین کرداروں کے لباس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کئی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فلم میں خواتین کرداروں کو سلے ہوئے بلاؤز میں دکھایا گیا ہے، جبکہ ان کے مطابق قدیم ہندوستان میں اس طرز کے ملبوسات عام نہیں تھے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ فلم کے لباس تاریخی دور کی نمائندگی کے بجائے جدید انداز سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔
فیشن اور ملبوسات کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم ہندوستان میں لباس عموماً بغیر سلائی کے مختلف انداز میں اوڑھا یا لپیٹا جاتا تھا، جبکہ سلے ہوئے بلاؤز کا استعمال بعد کے ادوار میں زیادہ مقبول ہوا۔
دوسری جانب فلم کے کاسٹیوم ڈیزائنرز نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رامائن کے دور کے لباس کے بارے میں کوئی مکمل اور مستند تاریخی ریکارڈ موجود نہیں۔ ان کے مطابق ملبوسات کی تیاری میں تاریخی حوالوں کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے سماجی اور ثقافتی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا گیا تاکہ کرداروں کی شبیہ اور وقار برقرار رکھا جا سکے۔
فلم میں سیتا اور شورپنکھا کے ملبوسات کے فرق پر بھی آن لائن بحث جاری ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف لباس کے ذریعے کرداروں کی مثبت یا منفی شناخت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ ڈیزائنرز کے مطابق ہر کردار کی شخصیت، مزاج اور کہانی کے مطابق الگ انداز اختیار کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی اور مذہبی موضوعات پر بننے والی فلموں میں ملبوسات ہمیشہ بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق صرف فیشن سے نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، عقائد اور عوامی توقعات سے بھی ہوتا ہے۔








