ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دے کر جائیں گے؟

ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دے کر جائیں گے؟

تحریر:عبداللہ

قومیں صرف اپنے ماضی سے نہیں بنتیں، وہ اس مستقبل سے بھی پہچانی جاتی ہیں جس کا خواب ان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ ہر نسل اپنے بعد آنے والوں کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتی ہے؛ کوئی علم، کوئی انصاف، کوئی آزادی، کوئی خوشحالی اور کوئی ایسا نظام جس میں انسان عزت اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اس لیے ہمیں کبھی نہ کبھی رک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں؟

پاکستان کا قیام صرف ایک جغرافیائی خطے کے حصول کا نام نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک بہتر زندگی، عزت، آزادی اور انصاف کی امید بھی تھی۔ مگر آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا حصہ بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک طرف دولت، زمین اور مواقع چند ہاتھوں میں مرکوز ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف مزدور، کسان، کم آمدنی والے ملازمین اور غریب خاندان اپنی زندگی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

ہم نے ترقی کا تصور بھی بعض اوقات بہت محدود کر دیا ہے۔ نئی سڑک، بلند عمارت، بڑا شاپنگ مال یا چند بڑے منصوبے یقیناً اہم ہو سکتے ہیں، مگر کسی ملک کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف اس کی عمارتیں اور سڑکیں نہیں ہوتیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی بہتر ہوئی؟ کیا غریب کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کر سکتا ہے؟ کیا بیمار شخص علاج کی استطاعت رکھتا ہے؟ کیا محنت کرنے والا اپنے خاندان کو باعزت زندگی دے سکتا ہے؟

ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بچے کی قسمت اس کے والدین کی مالی حیثیت سے طے نہ ہو۔ جہاں ایک غریب گھرانے کا بچہ بھی ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان یا کسی بھی شعبے کا ماہر بننے کا خواب دیکھ سکے اور غربت اس خواب کی راہ میں دیوار نہ بنے۔ تعلیم کو مراعات نہیں بلکہ بنیادی حق سمجھنا ہوگا۔

صحت بھی اسی طرح بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے اسپتال اس وقت تک حقیقی ترقی کی علامت نہیں بن سکتے جب تک عام شہری ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہ ہو۔ ایک ایسا نظام ضروری ہے جہاں کسی خاندان کو صرف اس خوف سے اپنا گھر یا جمع پونجی نہ بیچنی پڑے کہ اس کا کوئی فرد بیمار ہو گیا ہے۔

اس ملک کی تعمیر میں مزدور کا کردار کسی بڑے عہدے دار سے کم نہیں۔ جو شخص سڑک بناتا ہے، عمارت کھڑی کرتا ہے، کارخانے میں کام کرتا ہے، شہر صاف کرتا ہے یا اپنے ہاتھوں سے کوئی ہنر پیدا کرتا ہے، وہ ہماری معیشت کی بنیاد ہے۔ معاشرے کی عزت صرف دفتروں میں بیٹھنے والوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے؛ محنت کرنے والا ہر شخص عزت کا مستحق ہے۔

کسان بھی ہماری ترجیحات کا مرکز ہونا چاہیے۔ جو شخص ہمارے لیے خوراک پیدا کرتا ہے اگر وہ خود قرض، مہنگے زرعی اخراجات، پانی کی قلت اور غیر یقینی منڈی کے مسائل میں گھرا رہے تو ہماری ترقی کا دعویٰ ادھورا ہے۔ زرعی شعبے کو مضبوط کیے بغیر معاشی استحکام کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح خواتین کو برابر کے شہری حقوق اور مواقع دینا ناگزیر ہے۔ کوئی ملک اپنی نصف آبادی کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لڑکی کی تعلیم، اس کی حفاظت، اس کی معاشی خودمختاری اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق ایک مہذب معاشرے کی بنیادی نشانیاں ہیں۔

اقلیتوں کے لیے بھی پاکستان ایسا وطن ہونا چاہیے جہاں انہیں اپنے ہی ملک میں اجنبیت محسوس نہ ہو۔ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرنا نہیں بلکہ سب کے جان و مال، عزت اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کی یکسانیت میں نہیں بلکہ اس کے مختلف رنگوں اور ثقافتوں میں ہے۔

وفاق بھی اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کی اکائیاں خود کو محفوظ، بااختیار اور برابر سمجھیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خودمختاری اور مؤثر مقامی حکومتیں کسی ایک طبقے کی رعایت نہیں بلکہ مضبوط جمہوری ریاست کی ضرورت ہیں۔ ملک کے ہر حصے کے شہری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان صرف نقشے پر موجود ایک ملک نہیں بلکہ اس کا اپنا گھر ہے۔

سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ایک ایسی نسل جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹاتی رہے اور آخرکار اپنے ملک سے باہر مواقع تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے، اس کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع دینا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

معیشت میں دولت پیدا ہونا ضروری ہے، مگر اس دولت کے ثمرات معاشرے تک پہنچنا بھی ضروری ہیں۔ سرمایہ کاری اور کاروبار ترقی کے لیے اہم ہیں، لیکن معاشی پالیسی کا آخری مقصد انسان کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں کے لوگ اگر بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

آخرکار ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو صرف موٹرویز، عمارتیں اور بڑے منصوبے دینے ہیں یا ایک ایسا معاشرہ بھی دینا ہے جہاں انصاف عام ہو، تعلیم قابلِ رسائی ہو، علاج ممکن ہو، مزدور کی محنت قابلِ احترام ہو، کسان محفوظ ہو، عورت بااختیار ہو اور ہر شہری کو اپنی جان، عزت اور مستقبل کے بارے میں اعتماد حاصل ہو۔

ہم اپنے بچوں کو ایک مکمل اور بے عیب دنیا نہیں دے سکتے۔ کوئی نسل ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ لیکن ہم انہیں ایک بہتر سمت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہم ایسا پاکستان چھوڑ سکتے ہیں جہاں امید زندہ ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور انسان کو اس کی دولت، طاقت، زبان، صوبے یا شناخت سے پہلے انسان سمجھا جائے۔

شاید کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ یہی امید ہے۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے پاکستان سے کیا حاصل کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟

Leave a reply