آخر پاکستان میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ناروے کے وزیر خارجہ کا عام مسافر کی طرح اپنا ٹرالی بیگ لے کر باہر نکلنے کا منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔ بظاہر یہ ایک معمول کی بات تھی، مگر پاکستان میں اس پر ہونے والی بحث نے ایک اہم معاشرتی حقیقت اجاگر کی: عوام اقتدار کی غیر ضروری نمائش اور شاہانہ پروٹوکول سے اب خوش نہیں۔
پاکستان میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، سیاست دانوں اور بااثر شخصیات کی نقل و حرکت کے دوران گاڑیوں کے قافلے، سائرن، سڑکوں کی بندش اور خصوصی انتظامات طویل عرصے سے معمول کا حصہ ہیں۔ یہ روایت کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف ادوار میں مختلف شکلوں کے ساتھ برقرار رہی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی شخصیات بیرونِ ملک عام مسافروں کی طرح قطار میں کھڑی، اپنا سامان اٹھاتی اور معمول کے سفری مراحل خود مکمل کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن وطن واپسی پر اکثر ان کے گرد پروٹوکول کا ایک ایسا حصار قائم ہو جاتا ہے جو انہیں عام شہریوں سے نمایاں طور پر الگ کر دیتا ہے۔
سماجی علوم کے تناظر میں اس رویے کو طاقت کی علامتی نمائش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی مفکر پیئر بورڈیو کے نظریے کے مطابق طاقت صرف قوانین اور اداروں کے ذریعے نہیں بلکہ علامتوں، رویوں اور سماجی فاصلوں کے ذریعے بھی اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔ جب معاشرہ ایسے مظاہر کو معمول اور ناگزیر سمجھنے لگے تو طاقت کا یہ اظہار اجتماعی ذہن کا حصہ بن جاتا ہے۔
پاکستان میں پروٹوکول کلچر کی جڑیں نوآبادیاتی دور تک بھی پہنچتی ہیں۔ برطانوی راج میں حکمران طبقے اور عام آبادی کے درمیان واضح فاصلہ برقرار رکھنا حکمرانی کے طریقۂ کار کا اہم حصہ تھا۔ آزادی کے بعد ریاستی ڈھانچے میں کئی نوآبادیاتی روایات برقرار رہیں اور وقت کے ساتھ پروٹوکول کو عہدے کے وقار اور سیکیورٹی کی ضرورت سے جوڑ دیا گیا۔
ملکی سماجی ساخت نے بھی اس رجحان کو تقویت دی۔ جاگیردارانہ، قبائلی اور طاقت کے روایتی تصورات میں اثر و رسوخ اکثر اس بات سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ کسی شخصیت کے گرد کتنے افراد، گاڑیاں یا مسلح محافظ موجود ہیں۔ یہی ذہنیت جب سیاسی اور انتظامی اداروں میں داخل ہوئی تو جمہوری عہدے بھی بعض اوقات اسی طرز کی طاقت کی نمائش کا ذریعہ بن گئے۔
مسئلہ صرف حکمران طبقے تک محدود نہیں۔ عوام اور میڈیا بھی اس کلچر کو مضبوط یا کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف شہری پروٹوکول کے باعث ٹریفک کی بندش اور روزمرہ مشکلات پر احتجاج کرتے ہیں، دوسری طرف سادہ طرزِ زندگی اختیار کرنے والے حکمران کو کبھی کبھار کمزور یا بے اثر سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس رویے میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور میڈیا شخصیات کو ان کے قافلوں، سیکیورٹی حصار یا ظاہری رعب کے بجائے کارکردگی، قابلیت، دیانت اور عوامی خدمت کی بنیاد پر جانچیں۔ اگر طاقت کی نمائش کو سماجی عزت کا معیار نہ بنایا جائے تو پروٹوکول کلچر کے لیے عوامی جواز بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
سیکیورٹی کی حقیقی ضرورت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن غیر ضروری شاہانہ پروٹوکول اور لازمی حفاظتی اقدامات میں فرق کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ریاستی عہدہ عوام سے فاصلے کی علامت نہیں بلکہ عوام کی خدمت کی ذمہ داری ہے۔ شاید پروٹوکول کلچر کے خاتمے کی ابتدا حکمرانوں سے کم اور معاشرے کے اس رویے سے زیادہ ہو جس میں ہم طاقت کے مظاہر کو عزت کا پیمانہ سمجھنا چھوڑ دیں۔









