نقارۂ عدل یا مضبوط نظام؟

نقارۂ عدل یا مضبوط نظام؟

تحریر:محمد رشید

شخصیت پرستی انسانی تاریخ کا نیا رجحان نہیں۔ قدیم معاشروں میں بادشاہوں اور حکمرانوں کو غیر معمولی تقدس دیا جاتا تھا، کیونکہ اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ تاثر مفید سمجھا جاتا تھا کہ حاکم عام انسان نہیں بلکہ رعایا کی تقدیر بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، ریاستی ادارے مضبوط ہوئے اور دنیا کے ایک بڑے حصے نے یہ اصول تسلیم کیا کہ ریاست کسی فرد کے مزاج سے نہیں بلکہ قانون، اداروں اور مستقل نظام سے چلنی چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی شخصیت کو نظام پر فوقیت دینے کا رجحان موجود ہے۔ ہمیں ایسا افسر پسند آتا ہے جو ہماری درخواست خود سن لے، ایسا سیاست دان اچھا لگتا ہے جو ایک فون پر کام کروا دے اور ایسا حکمران مقبول ہوجاتا ہے جو ہر مسئلے پر فوری نوٹس لے۔ بظاہر یہ طرزِ عمل عوام دوستی محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک خطرناک کمزوری چھپی ہوتی ہے: شہری اپنے حق کو قانون کے تحت حاصل کرنے کے بجائے کسی طاقتور فرد کی مداخلت کا محتاج ہوجاتا ہے۔

کھلی کچہری اسی رویے کی ایک مثال بن سکتی ہے۔ اگر کسی افسر کی براہِ راست مداخلت سے ایک شہری کا مسئلہ فوری حل ہوجاتا ہے تو یہ یقیناً ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہی مسئلہ آئندہ کسی افسر کے ذاتی حکم کے بغیر بھی طے ہوجائے۔ اگر ایک شخص کی موجودگی ضروری ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ادارہ ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا۔

ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ فرد مسئلہ حل کرتا ہے، لیکن اچھا نظام مسئلہ دوبارہ پیدا ہونے سے روکتا ہے۔

ایک مثالی ریاست میں شہری کو اپنے جائز حق کے لیے کسی بااثر شخص تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ درخواست کہاں دینی ہے، فیصلہ کب ہوگا، اپیل کیسے ہوگی اور ذمہ دار افسر قانون کے سامنے جواب دہ کیسے ہوگا۔ جب یہ تمام مراحل واضح اور قابلِ عمل ہوں تو سفارش، تعلق اور ذاتی اثر و رسوخ کی اہمیت خود بخود کم ہوجاتی ہے۔

اصل بحران صرف شخصیت پرستی نہیں بلکہ نظام کے اندر موجود غیر رسمی راستے بھی ہیں۔ جب میرٹ کے بجائے تعلق، قانون کے بجائے سفارش اور ضابطے کے بجائے اثر و رسوخ فیصلہ کن بن جائیں تو ادارے اپنی ساکھ کھونے لگتے ہیں۔ پھر اچھے لوگ بھی ایک ایسے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں اصول موجود تو ہوتے ہیں، مگر ان کا اطلاق ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتا۔

ایسے ماحول میں ہم اکثر کسی ایک غیر معمولی فرد سے بہت سی امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ایک ایماندار افسر، ایک مخلص وزیر یا ایک مضبوط حکمران پورا نظام بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر پورا نظام ایک فرد کی نیک نیتی کا محتاج ہو تو اس فرد کے رخصت ہوتے ہی پرانی خرابیوں کے واپس آنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔

اسی لیے قوموں کی اصل طاقت غیر معمولی شخصیات سے زیادہ غیر معمولی اداروں میں ہوتی ہے۔ مضبوط نظام وہ ہے جو اچھے آدمی کے ہاتھ میں بھی مؤثر رہے اور کمزور آدمی کے ہاتھ میں بھی اسے قانون سے باہر جانے نہ دے۔ ایسا نظام جس میں فیصلے شخصیات کی پسند و ناپسند کے بجائے واضح قواعد کے مطابق ہوں، جہاں احتساب عہدے کے بجائے عمل کی بنیاد پر ہو اور جہاں شہری کو اپنا حق لینے کے لیے کسی دربار میں حاضری نہ دینی پڑے۔

ہمیں اب یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اگر ایک افسر چند گھنٹوں میں وہ کام کرسکتا ہے جس کے لیے عام شہری مہینوں دفاتر کے چکر لگاتا ہے تو مسئلہ افسر کی غیر معمولی صلاحیت ہے یا نظام کی غیر معمولی کمزوری؟

شاید ہماری سب سے بڑی ضرورت مزید مسیحاؤں کی نہیں بلکہ بہتر اداروں کی ہے۔ ہمیں ایسے حکمران نہیں چاہییں جو ہر شکایت خود سنیں؛ ہمیں ایسے حکمران چاہییں جو ایسا نظام قائم کریں جہاں شکایت سنوانے کے لیے حکمران کی ضرورت ہی نہ رہے۔

تاریخ میں شخصیات ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی ہیں۔ عہدے بدلتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں اور بااثر افراد منظر سے ہٹ جاتے ہیں، مگر مضبوط ادارے قائم رہیں تو ریاست کا سفر جاری رہتا ہے۔

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں ہر شہری اپنے کام کے لیے کسی طاقتور شخص کا دروازہ کھٹکھٹائے، یا ایسا نظام جہاں قانون کا دروازہ سب کے لیے پہلے ہی کھلا ہو؟

اصل ترقی شاید اسی دن شروع ہوگی جب ہمیں نقارۂ عدل بجانے والے بادشاہ کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ انصاف کا نظام خود بیدار ہوگا۔

Leave a reply