کیا بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ وہ سوال جس کا جواب پاکستان کو اب دینا ہوگا

کیا بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ وہ سوال جس کا جواب پاکستان کو اب دینا ہوگا

تحریر:عبداللہ

ہر دھماکے کے بعد ایک نئی مذمتی پریس ریلیز آتی ہے، ہر حملے کے بعد ایک نئی یقین دہانی سننے کو ملتی ہے، مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: آخر بلوچستان میں آگ کیوں نہیں بجھ رہی؟

بلوچستان اب صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، سیاسی استحکام اور ریاستی رٹ کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اگر اس بحران کو صرف دہشت گردی یا محض بیرونی سازش قرار دے کر نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کی قیمت پورے ملک کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ریاستی مؤقف کے مطابق بھارت اور افغانستان سے جڑے بعض عناصر پر پاکستان مخالف سرگرمیوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن کیا صرف خارجی عوامل ہی بلوچستان کے بحران کی مکمل وضاحت کرتے ہیں؟ شاید نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے اندر بھی ایسے سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی مسائل موجود ہیں جنہوں نے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں۔ جب مسائل برسوں تک حل نہ ہوں، حکمرانی کمزور ہو، بنیادی سہولیات محدود ہوں اور لوگوں کو اپنی آواز سنی نہ جائے، تو بے چینی میں اضافہ ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔

آج اطلاعات کے اس دور میں کسی بھی حقیقت کو زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہیں رہا۔ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات بلوچستان میں مسلسل سیکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف بیانیے پر انحصار کرے گی تو عوامی اعتماد مزید کمزور ہوگا۔

ریاستی رٹ صرف طاقت سے قائم نہیں رہتی، بلکہ انصاف، مؤثر حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور ان قربانیوں کا اعتراف ضروری ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف عسکری کارروائیاں کسی دیرینہ سیاسی بحران کا مکمل حل نہیں ہوتیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ بلوچستان کی منتخب سیاسی قیادت کہاں کھڑی ہے؟ کیا مقامی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا؟ کیا مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی نمائندوں کو ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا؟ اگر نہیں، تو پھر مستقل امن کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

بلوچستان کے مسئلے کا حل صرف سیکیورٹی آپریشنز میں نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ ایسے بااختیار مذاکراتی عمل کی ضرورت ہے جس میں وفاق، صوبائی حکومت، مقامی سیاسی قیادت اور دیگر متعلقہ فریق ایک میز پر بیٹھ کر آئینی اور قانونی دائرے میں مسائل کا حل تلاش کریں۔

اسی طرح صوبے میں گورننس، تعلیم، صحت، روزگار، مقامی حکومتوں کے اختیارات اور انسانی ترقی جیسے شعبوں پر سنجیدہ توجہ دینا بھی ناگزیر ہے۔ جب عوام کو محسوس ہوگا کہ ریاست صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے، تبھی اعتماد بحال ہوگا۔

بیرونی مداخلت کا مؤثر جواب صرف سفارت کاری یا دفاعی اقدامات سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی استحکام، عوامی اعتماد اور سیاسی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ایک مضبوط اور متحد معاشرہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتا ہے۔

آج پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بلوچستان کے بحران کو سیاسی بصیرت، مؤثر حکمرانی اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

طاقت ریاست کو وقتی کامیابی دلا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف اعتماد، انصاف، مؤثر حکمرانی اور سیاسی مکالمے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کو صرف محفوظ نہیں، بلکہ مطمئن بنانا ہوگا۔ یہی پاکستان کی مضبوطی کی اصل ضمانت ہے۔

Leave a reply