اسلام آباد: احتجاج کی کال سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ، متعدد پی ٹی آئی رہنما گرفتار

0
0
اسلام آباد: احتجاج کی کال سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ، متعدد پی ٹی آئی رہنما گرفتار

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ احتجاج سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکام کی جانب سے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور حکومت کے درمیان بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث کے نام بتائے گئے ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں ڈپٹی کمشنر کے حکم پر علیمہ خان کو 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے ان پر عوامی امن و امان متاثر کرنے اور کارکنوں کو احتجاج پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں بھی ایک واقعے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شکیل خان کے محافظ کی مبینہ فائرنگ سے دو لیویز اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کارکنوں سے خطاب میں 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کرے گی اور مختلف راستے استعمال کیے جائیں گے۔

حکومتی حلقوں نے ان بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت ریاست اور وفاق کی علامت ہے اور حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا کہ اسلام آباد کسی ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں اور دارالحکومت کو تصادم کی جگہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق سڑکوں کی بندش سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں اور حکومت کسی بھی پرتشدد سرگرمی کو روکنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔

دریں اثنا اسلام آباد انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی قافلوں کی آمد روکنے کے لیے سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات سخت کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے مختلف راستوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر اہم مقامات پر رکاوٹیں قائم کرنے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

حالیہ صورتحال کے باعث 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل وفاقی دارالحکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم احتجاج کے دن صورتحال کس رخ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔

Leave a reply