نئے صوبوں کا طوفان: اصلاحات کی آواز یا اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ؟

پاکستان کی سیاست میں کبھی کبھی ایک جملہ، ایک تقریر یا ایک بیانیہ ایسا آتا ہے جو برسوں سے دبے ہوئے سوالات کو اچانک زندہ کر دیتا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ کی چھوٹے صوبوں اورنئے انتظامی یونٹس کے حوالے سےگفتگو بھی کچھ ایسی ہی ثابت ہوئی ہے۔ چند لمحوں میں ایک انتظامی بحث سیاسی میدان کا سب سے بڑا موضوع بن گئی۔ ہر سیاسی جماعت بول رہی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر سب کے لہجے میں ایک محتاط پن بھی نمایاں ہے۔
یہ پہلا موقع محسوس ہوا ہے کہ اس معاملے پر بات کرنا اتنا آسان نہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ محض روایتی نعروں سے اس بحث کو دبایا نہیں جا سکتا، کیونکہ سوال صرف صوبوں کے قیام کا نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی اس معاملے پر محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کو براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرنے اور ماحول کو کشیدہ نہ کرنے کا پیغام دیا گیا۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی اس معاملے پر زیادہ سخت ردعمل کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ماضی میں محسن نقوی اور پیپلزپارٹی کے تعلقات خوشگوار رہے ہیں، لیکن اس مسئلے پر سیاسی اختلاف نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کی بحث واقعی ایک سیاسی چال ہے یا پاکستان کے انتظامی بحران کا ایک ممکنہ حل؟
25 کروڑ عوام، صرف چار صوبے — کیا یہ ماڈل اب بھی قابل عمل ہے؟
پاکستان جب وجود میں آیا تو آبادی چند کروڑ تھی۔ آج یہ ملک 25 کروڑ سے زائد آبادی رکھتا ہے، مگر انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ چار صوبوں پر مشتمل یہ نظام ایک ایسے وقت میں چل رہا ہے جب دنیا بھر میں بڑی آبادیوں کو بہتر حکمرانی کے لیے چھوٹے اور موثر انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے کئی صوبے آبادی کے لحاظ سے دنیا کے متعدد ممالک سے بڑے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک وزیر اعلیٰ، ایک صوبائی سیکریٹریٹ اور ایک مرکزی دارالحکومت لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے مسائل مؤثر انداز میں حل کر سکتے ہیں؟
آج گوادر کا شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور کوئٹہ کا سفر کرنے پر مجبور ہے۔ چترال کا رہائشی پشاور تک پہنچنے کی مشکلات جانتا ہے۔ جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور دیگر دور دراز علاقوں کے لوگ بھی یہی شکایت کرتے ہیں کہ ریاست ان کے دروازے تک نہیں پہنچتی بلکہ انہیں ریاست تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔
ریاست کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ شہری دفتر تلاش کرتا پھرے، بلکہ نظام ایسا ہونا چاہیے کہ دفتر شہری تک پہنچے۔
اٹھارویں ترمیم کا مقصد کیا تھا؟
صوبائی خودمختاری پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اختیارات واقعی عوام تک پہنچے؟
مرکز سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے، مگر کیا وہ اختیارات اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلز تک بھی پہنچے؟
بدقسمتی سے کئی حلقوں کے مطابق صوبائی خودمختاری کا فائدہ عام شہری تک محدود انداز میں پہنچا۔ مضبوط بلدیاتی نظام، مالی اختیارات کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کی بااختیاری وہ شعبے ہیں جہاں اب بھی بڑے سوالات موجود ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کی بات کرنے والی سیاسی جماعتیں اکثر اپنے صوبوں میں اختیارات کی مزید تقسیم پر خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ یہی تضاد اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔
اصل خوف کس بات کا ہے؟
نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والوں کا سب سے بڑا اعتراض سیاسی اور لسانی پیچیدگیوں سے متعلق ہے۔ یہ خدشات اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں شناخت کا مسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے۔
لیکن ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سیاست چند مخصوص خاندانوں اور روایتی طاقتور حلقوں تک محدود نہ رہے۔ نئے علاقوں میں نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے، جوابدہی بڑھ سکتی ہے اور عام شہری کے لیے سیاسی عمل میں داخل ہونے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
شاید یہی وہ پہلو ہے جو بعض طاقتور حلقوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔
عوام کا غصہ کب تک روکا جا سکتا ہے؟
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف معیشت یا سیاست نہیں، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی ہے۔
جب ایک شہری کو معمولی کام کے لیے مہینوں دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، جب صحت، تعلیم اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات اس کی دہلیز تک نہ پہنچ سکیں، تو نظام پر اعتماد کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
عوام کا غصہ کسی بھی ملک کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ مسائل کو بحران بننے سے پہلے حل کیا جائے۔
فیصلہ سیاست دانوں نے نہیں، عوام نے کرنا ہے
نئے صوبے بنانے یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کسی ایک شخصیت، جماعت یا حکومت کی خواہش سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک قومی بحث ہے جس میں عوامی رائے، آئینی تقاضے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
لیکن ایک بات واضح ہے: موجودہ نظام پر سوال اٹھانا اب جرم نہیں رہا۔ پاکستان کو بہتر حکمرانی، موثر مقامی حکومتوں اور عوام تک فوری رسائی والے نظام کی ضرورت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے نظام کو ہمیشہ جاری رکھ سکتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو اپنے ہی ملک میں ریاست سے دور محسوس کراتا ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ سیاسی مفادات سے بلند ہو کر سوچا جائے۔
کیونکہ ریاستیں صرف نقشوں سے مضبوط نہیں ہوتیں، ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب عام آدمی محسوس کرے کہ حکومت اس کے قریب ہے۔









