ایک لاش، کئی سوال اور انصاف کا بحران

ایک لاش، کئی سوال اور انصاف کا بحران

تحریر:عبداللہ

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی گمشدگی اور بعد ازاں لاش کی برآمدگی نے ایک بار پھر شہر میں پولیس کی تفتیشی صلاحیت، فرانزک نظام اور شہریوں کے اعتماد پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایسے مقدمات محض ایک خاندان کا دکھ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ریاستی نظامِ انصاف کا امتحان بن جاتے ہیں۔ جب ایک نوجوان لاپتہ ہو، اس کی لاش ملے اور کئی دن گزرنے کے باوجود قاتلوں تک پہنچنے کے لیے واضح پیش رفت دکھائی نہ دے تو عوام کا بے چین ہونا فطری ہے۔

اس مقدمے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ابتدائی تفتیش کس بنیاد پر کی گئی۔ کسی بھی قتل یا مشتبہ موت کے معاملے میں جائے وقوعہ کو محفوظ کرنا، شواہد اکٹھے کرنا، ڈیجیٹل ریکارڈ کا تجزیہ، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ڈیٹا، فرانزک نمونے اور پوسٹ مارٹم کی جامع رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے میں ان میں سے کسی ایک پہلو کو نظر انداز کیا جائے تو بعد کی تفتیش کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

میر رضا کے معاملے میں پوسٹ مارٹم اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی سے متعلق سوالات نے بھی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر ایک ہی لاش کے طبی معائنے کے حوالے سے مختلف مراحل سامنے آئیں اور خاندان کسی بورڈ پر اعتماد کا اظہار نہ کرے تو شفافیت کے تقاضے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کریں کہ بورڈ میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی، کون سی قانونی اور طبی وجوہات اس کے پیچھے تھیں اور تمام رپورٹس کو کس طریقہ کار کے تحت حتمی تفتیش کا حصہ بنایا گیا۔

اس مقدمے میں ابتدا ہی سے خودکشی کا امکان بھی زیر بحث رہا۔ تاہم کسی بھی موت کو خودکشی قرار دینا محض قیاس یا مقتول کی ذاتی زندگی سے متعلق چند معلومات کی بنیاد پر مناسب نہیں۔ خودکشی، حادثہ اور قتل تین الگ امکانات ہیں اور ہر امکان کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ اگر بعد میں سامنے آنے والے فرانزک یا طبی شواہد پہلے مفروضے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو تفتیشی اداروں کو اپنے ابتدائی مؤقف پر اصرار کرنے کے بجائے نئے سرے سے تمام امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔

کراچی کی تاریخ میں میر مرتضیٰ بھٹو کا مقدمہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ناقص ابتدائی تفتیش برسوں بعد بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس مقدمے میں طبی شواہد، پولیس کارروائی اور واقعے کی تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو متنازع بنایا۔ ماضی کے ایسے مقدمات سے سبق نہ سیکھنا موجودہ نظام کی کمزوری کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔

آج فرانزک سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جرائم کی تفتیش کے طریقے بدل دیے ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی، ڈیجیٹل لوکیشن، مالیاتی لین دین، ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور دیگر سائنسی شواہد کسی مقدمے کی کڑیاں جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اسے تربیت یافتہ اہلکار، مناسب وسائل اور آزاد تفتیشی نظام دستیاب ہو۔

اصل مسئلہ صرف میر رضا کیس تک محدود نہیں۔ کراچی میں پولیس اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا بحران ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس اعتماد کو نعروں یا پریس کانفرنسوں سے بحال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایسی پولیس درکار ہے جو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو، جس میں تقرریاں اور تبادلے میرٹ پر ہوں، تفتیشی افسران کو جدید تربیت حاصل ہو اور ہر اہم مقدمے میں فرانزک ماہرین کی بروقت معاونت یقینی بنائی جائے۔

پولیس اسٹیشنوں کو تفتیش کے لیے مطلوبہ مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کے احتساب کا مؤثر نظام ہونا چاہیے تاکہ غفلت، شواہد ضائع کرنے یا تفتیش میں جان بوجھ کر کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ہوسکے۔

کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے پولیس کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ میٹروپولیٹن پولیس کا تصور ہو یا موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات، مقصد ایک ہی ہونا چاہیے: پولیس کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، شفاف تفتیش اور قانون کی بالادستی کے لیے مؤثر بنانا۔

میر رضا کے خاندان کو سب سے بڑھ کر یقین دہانی نہیں بلکہ نتیجہ چاہیے۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا، ذمہ دار کون ہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کب لایا جائے گا۔ یہ حق صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش میں کسی مخصوص نتیجے کو پہلے سے طے کرنے کے بجائے تمام امکانات کو سائنسی شواہد کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔ حکومت، پولیس، فرانزک اداروں اور عدالتی نظام کو مل کر ایسا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا جس سے شکوک کم ہوں اور حقائق سامنے آئیں۔

میر رضا کا مقدمہ اگر شفاف، غیر جانب دار اور سائنسی بنیادوں پر حل ہوتا ہے تو یہ صرف ایک خاندان کو انصاف دینے کا عمل نہیں ہوگا بلکہ کراچی کے شہریوں کو یہ پیغام بھی دے گا کہ اس شہر میں ایک انسان کی جان کی قیمت ہے اور اس کے قتل کی فائل محض ایک اور فائل بن کر الماری میں دفن نہیں ہوگی۔

Leave a reply