کیا جرم ہے بہتر زندگی کا خواب دیکھنا؟

کیا جرم ہے بہتر زندگی کا خواب دیکھنا؟

تحریر:نور فاطمہ

رات کے سناٹے میں ٹیلی ویژن کی نیلی روشنی کمرے کی دیواروں پر پھیل رہی تھی۔ اسکرین پر ایک بے رحم سمندر تھا، شور مچاتی لہریں تھیں، اور ان لہروں کے درمیان چند چھوٹی چھوٹی کشتیاں تھیں جن میں بیٹھے انسان اپنی پوری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔

وہ صرف سمندر عبور نہیں کر رہے تھے، وہ اپنی قسمت سے لڑ رہے تھے۔

ان کشتیوں میں بیٹھے ہر شخص کے پاس ایک کہانی تھی۔ کسی کی جیب میں ماں کی تصویر تھی، کسی کے دل میں بچوں کا مستقبل، کسی کی آنکھوں میں ایک چھوٹا سا خواب کہ شاید دوسری طرف پہنچ کر زندگی بدل جائے گی۔ مگر سمندر کو خوابوں، دعاؤں اور آنسوؤں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کبھی کبھی امید کے مسافروں کو بھی اپنے اندر دفن کر لیتا ہے۔

مراکش سے اسپین تک کا یہ سفر صرف چند سو کلومیٹر کا فاصلہ نہیں، یہ انسان کی مجبوریوں، محرومیوں اور ٹوٹے ہوئے نظام کی ایک لمبی داستان ہے۔

سوال یہ نہیں کہ وہ لوگ خطرناک راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی آگ ہے جو ایک انسان کو اپنا گھر، اپنی گلیاں، اپنے پیارے اور اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے؟

کون سی رات ہوتی ہے جب ایک ماں اپنے بیٹے کو آخری بار گلے لگاتی ہے؟ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب ایک باپ اپنے بچوں کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا ہے کہ شاید اگلی ملاقات کسی اور سرزمین پر ہو؟

ہجرت صرف سفر نہیں ہوتی۔

ہجرت ایک ایسا زخم ہے جو جسم سے پہلے روح پر لگتا ہے۔

جب کوئی شخص اپنا گھر چھوڑتا ہے تو وہ صرف ایک جگہ نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنی یادیں چھوڑتا ہے، اپنے بچپن کی گلیاں چھوڑتا ہے، وہ دروازہ چھوڑتا ہے جہاں کبھی خوشیوں کی دستک ہوتی تھی۔ وہ قبرستان چھوڑتا ہے جہاں اس کے بزرگ سو رہے ہوتے ہیں۔ وہ زبان، موسم اور وہ چہرے چھوڑتا ہے جن کے بغیر زندگی کا تصور کبھی نہیں کیا تھا۔

مگر دنیا اکثر ان لوگوں کو صرف ایک نمبر بنا دیتی ہے۔

“اتنے مہاجر آئے۔”
“اتنے لوگ سمندر میں ڈوب گئے۔”
“اتنے افراد کو واپس بھیج دیا گیا۔”

لیکن ان اعداد کے پیچھے انسان ہوتے ہیں۔

کسی گھر کا چراغ۔
کسی ماں کی دعا۔
کسی بچے کا انتظار۔
کسی خاندان کی آخری امید۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہجرت انسانیت کے ساتھ ہمیشہ چلتی رہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بھی لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ٹرینیں چلتی تھیں، مگر ان میں صرف مسافر نہیں ہوتے تھے؛ ان میں خواب بھی ہوتے تھے، خوف بھی، جدائیاں بھی اور درد کی ایسی داستانیں بھی جنہیں وقت بھی مکمل طور پر مٹا نہ سکا۔

آج دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ نکل رہے ہیں۔ کہیں جنگ ہے، کہیں بھوک، کہیں آمریت، کہیں غربت اور کہیں ایسا نظام جو انسان کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیتا ہے۔

ہم اکثر پوچھتے ہیں:
“یہ لوگ ہمارے ملک کیوں آ رہے ہیں؟”

مگر شاید ہمیں ایک اور سوال پوچھنا چاہیے:

“یہ لوگ اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوئے؟”

دنیا نے سرحدیں تو بنا لیں، مگر انصاف کی سرحدیں قائم نہ کر سکی۔ سرمایہ آزادانہ دنیا گھومتا ہے، مگر ایک غریب انسان کو ایک بہتر زندگی کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑتی ہے۔

ایک طرف دولت کے بڑے بڑے خزانے ہیں، دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔

کیا بہتر زندگی کی خواہش جرم ہے؟

کیا امن کی تلاش جرم ہے؟

کیا عزت سے جینے کی خواہش جرم ہے؟

اگر یہ جرم نہیں تو پھر وہ حالات کیوں جرم نہیں جو انسان کو موت کے سمندر میں دھکیل دیتے ہیں؟

ہم سمندروں پر مزید دیواریں بنا سکتے ہیں، مزید کشتیاں روک سکتے ہیں، مزید تاریں لگا سکتے ہیں، مگر جب تک دنیا میں ناانصافی، جنگ اور محرومی موجود رہے گی، انسان راستے تلاش کرتا رہے گا۔

کیونکہ انسان امید کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

اور کبھی کبھی یہی امید اسے ایسی کشتی میں بٹھا دیتی ہے جس کا ایک کنارہ زندگی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا موت کی طرف۔

کچھ دن بعد یہ خبر پرانی ہو جائے گی۔ نئی سرخیاں آ جائیں گی۔ دنیا آگے بڑھ جائے گی۔ مگر ان گھروں میں وقت رک جائے گا جہاں کسی کا بیٹا واپس نہیں آئے گا۔

وہ مائیں دروازے کی طرف دیکھتی رہیں گی۔
وہ بچے ہر آہٹ پر چونک جائیں گے۔
وہ نام جو خبروں میں چند لمحوں کے لیے آئے تھے، اپنے پیاروں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

سمندر نے اس بار بھی خواب نگلے ہیں۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے انسان سمندر تک پہنچنے پر کیوں مجبور ہوئے؟

ایک مہذب دنیا کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنی اونچی دیواریں بنا سکتی ہے۔

اصل پہچان یہ ہے کہ وہ کتنے انسانوں کو اپنا گھر چھوڑنے سے بچا سکتی ہے۔

کیونکہ جب تک انسان کو اپنے ہی وطن میں امن، عزت، روزگار اور انصاف نہیں ملے گا، تب تک کشتیاں چلتی رہیں گی، لہریں اٹھتی رہیں گی، اور سمندر خواب نگلتا رہے گا۔

Leave a reply