چودہ ننھے جنازے اور ایک سویا ہوا نظام

چودہ ننھے جنازے اور ایک سویا ہوا نظام

تحریر:نور فاطمہ

کبھی کبھی کوئی خبر صرف خبر نہیں رہتی، وہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے چودہ نومولود بچوں کی موت بھی ایسا ہی سوال ہے۔ یہ وہ بچے تھے جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، جن کی ماؤں نے شاید ان کے نام سوچ رکھے تھے، جن کے باپ ان کی پہلی مسکراہٹ کے منتظر تھے۔ مگر 26 اگست کی صبح ان خاندانوں کے لیے زندگی بھر کا اندھیرا لے آئی۔

اطلاعات کے مطابق آگ پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر نرسری میں لگی۔ نرسری میں موجود نومولود بچوں میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔ آگ کے فوری سبب کے بارے میں ابتدائی رپورٹس میں مختلف امکانات سامنے آئے ہیں، جن میں برقی خرابی، آکسیجن اور طبی آلات سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ حتمی حقیقت تحقیقات ہی طے کریں گی۔

لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کہاں سے لگی۔

اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد چودہ بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آگ کسی بھی عمارت میں لگ سکتی ہے۔ مشین خراب ہوسکتی ہے، تار میں شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے، کوئی آلہ ناکام ہوسکتا ہے۔ جدید ترین ہسپتال بھی حادثے سے سو فیصد محفوظ نہیں ہوتے۔ لیکن ایک جدید طبی مرکز کی اصل آزمائش حادثہ نہ ہونا نہیں بلکہ حادثے کے لمحے میں جانیں بچانے کی صلاحیت ہے۔

نومولود بچے عام مریض نہیں ہوتے۔ وہ خود چل کر باہر نہیں نکل سکتے، خطرے سے آگاہ نہیں ہوسکتے، آکسیجن اور انکیوبیٹر جیسے آلات پر انحصار کرتے ہیں اور چند لمحوں کی تاخیر بھی ان کے لیے جان لیوا ہوسکتی ہے۔ ایسے وارڈ میں فائر سیفٹی کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ علاج کا حصہ ہونی چاہیے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پمز کا سانحہ ہمیں محض تعزیت سے آگے جانے پر مجبور کرتا ہے۔

حکومت نے فوری تحقیقات کا حکم دیا، اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی اور وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر کسی افسر کو معطل یا عہدے سے ہٹانا اس وقت تک کافی نہیں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ غلطی کہاں ہوئی، کس سطح پر ہوئی، کتنے عرصے سے ہوتی آرہی تھی اور اسے روکنے کی ذمہ داری کس کی تھی۔

ہماری تاریخ کا ایک المیہ یہ ہے کہ بڑے سانحات کے بعد انکوائری کمیٹیاں تو بن جاتی ہیں، مگر اکثر نظام وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ چند دن خبریں چلتی ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے اعلانات ہوتے ہیں، متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کی جاتی ہے، پھر قومی حافظہ اگلے سانحے کی خبر میں مصروف ہوجاتا ہے۔

پمز کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اس سانحے کی تحقیقات کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ آگ کس چیز سے لگی۔ تحقیقات کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ نرسری میں فائر الارم، اسپرنکلر، ہنگامی راستے، آکسیجن لائنز، بجلی کا نظام، فائر ایکسٹنگوشرز اور تربیت یافتہ عملہ کس حالت میں تھا۔ کیا عملے نے کبھی حقیقی ہنگامی مشق کی تھی؟ کیا نومولود بچوں کو چند منٹوں میں محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ موجود تھا؟ کیا اس منصوبے کی عملی مشق ہوئی تھی؟ اور سب سے اہم، کیا کسی نے کبھی اس نظام کو آزادانہ طور پر جانچا تھا؟

والدین کے بعض دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ راستوں اور دروازوں کے حوالے سے مسائل موجود تھے، جبکہ ہسپتال کی ابتدائی وضاحت میں عملے اور فائر سیفٹی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان متضاد دعوؤں کو الزام تراشی کے بجائے شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے پرکھنا ضروری ہے۔

کیونکہ اس معاملے میں سب سے خطرناک چیز صرف آگ نہیں، حقیقت کا غیر واضح رہ جانا ہے۔

اگر واقعی کوئی تکنیکی خرابی تھی تو معلوم کی جائے کہ اس کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری تھی۔ اگر فائر سیفٹی میں کوتاہی تھی تو ذمہ داروں کا تعین ہو۔ اگر عملے کی تربیت ناکافی تھی تو انتظامی ذمہ داری طے ہو۔ اگر عمارت کے ڈیزائن یا آکسیجن نظام میں خامی تھی تو اسے درست کیا جائے۔ اور اگر کسی سطح پر مجرمانہ غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

مگر ایک بات ضرور ہونی چاہیے: ذمہ داری فرد سے شروع ہو کر نظام تک پہنچے۔

کیونکہ اگر ایک شخص کو سزا دے کر فائل بند کردی گئی اور وہی ناقص نظام ملک کے دوسرے ہسپتالوں میں موجود رہا تو ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔

اس سانحے کا ایک تعمیری پہلو بھی ہونا چاہیے۔ ملک بھر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے نیونیٹل، آئی سی یو، ایمرجنسی اور آپریشن تھیٹرز کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے۔ صرف کاغذی سرٹیفکیٹ نہیں، بلکہ اچانک عملی معائنہ۔ ہر ہسپتال میں ہنگامی انخلا کی مشق لازمی ہونی چاہیے۔ طبی عملے کے ساتھ سکیورٹی، فائر سیفٹی اور معاون عملے کو بھی تربیت دی جانی چاہیے۔

خصوصاً نومولود بچوں کے وارڈز کے لیے الگ ایمرجنسی ایویکیوشن پروٹوکول ہونا چاہیے، کیونکہ یہاں مریضوں کو اٹھا کر، انکیوبیٹرز سے نکال کر یا طبی معاونت کے ساتھ منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کو کسی معمولی انتظامی خرچ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ حکومتیں اربوں روپے عمارتوں، آلات اور منصوبوں پر خرچ کرتی ہیں، مگر اگر ایک ہسپتال میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام ہی نہ ہو تو جدید مشینری بھی انسانی زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

اور میڈیا و معاشرے کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان ننھے بچوں کی موت کو سنسنی، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا چند دن کی جذباتی بحث تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے نام، ان کے خاندان اور ان کا دکھ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہیں۔

چودہ نومولود صرف چودہ اعداد نہیں تھے۔

وہ چودہ گھرانوں کی امید تھے۔
چودہ ماؤں کی دعائیں تھے۔
چودہ باپوں کے خواب تھے۔
اور شاید سب سے بڑھ کر، وہ ریاست کے اس وعدے کا امتحان تھے کہ ہسپتال میں آنے والا انسان محفوظ ہوگا۔

آج ضرورت صرف یہ کہنے کی نہیں کہ ’’ذمہ داروں کو نہیں بخشا جائے گا‘‘۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا نظام بنایا جائے جس میں اگلے نومولود کو بچانے کے لیے کسی وعدے، کسی سفارش اور کسی سانحے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

پمز میں لگی آگ بجھ چکی ہے، مگر اس سانحے کا سوال ابھی زندہ ہے:

کیا ہم صرف لاشیں گنیں گے، یا اس بار نظام بھی بدلیں گے؟

یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے، اداروں کو کرنا ہے، اور بالآخر پورے معاشرے کو کرنا ہے۔

کیونکہ اگر چودہ معصوم جانوں کے بعد بھی ہمارے ہسپتالوں کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی تیاری اور جواب دہی میں بنیادی تبدیلی نہ آئی تو پھر مسئلہ صرف پمز کی ایک نرسری کا نہیں ہوگا۔

مسئلہ پورے نظام کا ہوگا۔

Leave a reply