ایک حجاب، لاکھوں آنسو، اور قائد اعظم کا شکریہ

یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا، یہ ایک زخم تھا—وقار پر، شناخت پر، اور انسانیت پر۔
بھارت میں ایک مسلمان خاتون کا حجاب کھینچے جانے کی خبر نے سرحدوں سے ماورا ہو کر دلوں کو دہلا دیا۔ یہ ہاتھ صرف ایک کپڑے پر نہیں پڑا تھا، یہ ہاتھ اس آزادی پر اٹھا تھا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ وہ حجاب جو اس خاتون کے ایمان، اس کی شناخت اور اس کے وقار کی علامت تھا، اسے سرِعام نوچنے کی کوشش دراصل پوری مسلم عورت کی تذلیل تھی۔
اس لمحے پاکستان کی خواتین نے ایک گہرا سانس لیا—درد کا، شکر کا، اور فخر کا۔
آج پاکستانی خواتین کی آنکھیں نم ہیں، مگر ان آنسوؤں میں شکر کا اجالا بھی ہے۔ شکر اس سرزمین کا، شکر اس نظریے کا، اور شکر اس عظیم رہنما کا جس نے ہمیں یہ وطن دیا—قائد اعظم محمد علی جناحؒ۔
قائد اعظم!
آج آپ کی جدوجہد کی معنویت ہمیں پہلے سے زیادہ سمجھ آ رہی ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ پاکستان صرف ایک خطۂ زمین نہیں، یہ ایک پناہ گاہ ہے۔ ایک ایسی پناہ گاہ جہاں مسلمان عورت اپنے ایمان کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے، اپنے حجاب کے ساتھ چل سکتی ہے، اور اپنی شناخت کے ساتھ سانس لے سکتی ہے۔
آپ نے فرمایا تھا کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، اور ریاست اس کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں ریاستی طاقت کمزوروں کے وقار کو روند رہی ہے، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کا قیام کتنا ضروری تھا۔ اگر یہ وطن نہ ہوتا تو شاید آج ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے سروں سے بھی زبردستی دوپٹے کھینچے جا رہے ہوتے۔
پاکستانی عورت آج سر اٹھا کر کہہ سکتی ہے کہ یہ ملک اس کی عزت کا محافظ ہے۔ یہاں اختلاف ہو سکتے ہیں، مسائل ہو سکتے ہیں، مگر ریاستی سطح پر کسی عورت کے ایمان اور لباس پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ یہ فرق ہے۔ یہی فرق ایک نظریاتی ریاست کو زندہ رکھتا ہے۔
آج ہم قائد اعظم کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اس بصیرت پر سلام، اس حوصلے پر سلام، اور اس عزم پر سلام جس نے ہمیں یہ حق دیا کہ ہم اپنی پہچان کے ساتھ جئیں۔
اور اس مسلمان بہن کے نام—جس کا حجاب کھینچا گیا—ہم کہنا چاہتے ہیں:
آپ اکیلی نہیں ہیں۔ پاکستانی خواتین کا دل آپ کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ آپ کی بے حرمتی نے ہمیں اپنے وطن کی قدر اور اپنے قائد کے احسان کا احساس دلا دیا ہے۔
قائد اعظم!
شکریہ، کہ آپ نے ہمیں ایک ایسی ریاست دی جہاں حجاب جرم نہیں، بلکہ وقار کی علامت ہے۔









