اسکرین کے اس پار تنہا انسان

اسکرین کے اس پار تنہا انسان

تحریر:

یہ ایک عجیب مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دنیا میں انسانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، مگر انسانیت گھٹتی محسوس ہو رہی ہے۔ شہر پھیل رہے ہیں، عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، نیٹ ورک مضبوط ہو رہے ہیں، مگر دل سکڑتے جا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہجوم تو ہر جگہ ہے، مگر تنہائی بھی ہر دل میں بسی ہوئی ہے۔ بظاہر ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں ہر شخص اپنے ہی خول میں قید ہے۔

کہاوت ہے کہ “بندہ بندے کا دارو ہوتا ہے”، مگر آج کا بندہ زیادہ تر اپنے بھائی کے اسٹیٹس، اسٹوری اور پروفائل پکچر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم نے انسان کو انسان سے جوڑنے کے نام پر بے شمار پلیٹ فارم بنا لیے، مگر شاید دلوں کے درمیان پل بنانا بھول گئے۔ آج اگر کوئی بیمار ہو تو ہم اس کے پاس بیٹھنے کے بجائے اس کی پوسٹ پر “Get well soon” لکھ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں، جیسے چند الفاظ نے فرض ادا کر دیا ہو۔

ہر ہاتھ میں ایک اسکرین ہے، اور ہر دل میں ایک انجانی سی خالی جگہ۔ ہم نے فاصلے کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنایا، مگر نادانستہ طور پر دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر لیں۔ اب حال یہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے فون میں مصروف رہتے ہیں۔ خاموشی اب سکون نہیں رہی، بلکہ بے توجہی کی علامت بن چکی ہے۔

سوچیے، ہم نے کتنے “رابطہ خانے” بنا لیے ہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، واٹس ایپ، ٹیلیگرام، سگنل—ہر جگہ چیٹ کا آپشن موجود ہے، ہر وقت کنیکٹیویٹی کا دعویٰ ہے۔ مگر جب دل واقعی اداس ہوتا ہے، جب آنکھیں بغیر کہے بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں، تب کوئی اِن باکس میں نہیں آتا۔ صرف نوٹیفکیشن کی آوازیں گونجتی ہیں، جن میں احساس کم اور مشینی بے حسی زیادہ ہوتی ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ “آپ کی خاموشی دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر آپ کا اسٹیٹس پڑھنے کے لیے صرف انٹرنیٹ چاہیے۔” یہی اس دور کا المیہ ہے۔ آج لوگ اپنی سالگرہ پر کیک سے زیادہ لائیکس گنتے ہیں، اور اپنی خوشی کا پیمانہ لوگوں کے کمنٹس سے طے کرتے ہیں۔ “آن لائن” ہونا زندگی کی علامت بن چکا ہے، چاہے دل حقیقت میں کتنا ہی “آف لائن” کیوں نہ ہو۔

ٹیکنالوجی نے ہمیں بے شمار سہولتیں دیں۔ گھر بیٹھے کھانا، ایک کلک پر ٹیکسی، چند لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سب کے بدلے ہم نے کیا کھو دیا؟ “دل کی بات” اب صرف “Typing…” تک محدود ہو گئی ہے، اور “آنکھوں کی زبان” فلٹرز کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ جذبات اب محسوس نہیں کیے جاتے، بلکہ اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے زندگی کو آسان ضرور بنایا، مگر اس کے ساتھ ایک عجیب سی بے حسی بھی لے آئی۔ اب ہم کسی کی آنکھوں میں آنسو دیکھنے کے بجائے اس کی “اداس اسٹوری” دیکھتے ہیں اور دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ کم از کم اس نے پوسٹ تو کی ہے۔ جیسے جذبات کی بقا کا دارومدار بھی اب وائی فائی سگنل پر ہو۔

ہم سب اپنے اپنے ڈیجیٹل جزیروں پر آباد ہیں۔ کوئی ریلز بنانے میں مصروف ہے، کوئی وی لاگ اپ لوڈ کرنے میں، اور کوئی چند سطروں کے ٹویٹ میں پوری دنیا کی اصلاح کر رہا ہے۔ مگر جب رات کو نیند نہیں آتی، جب دل بوجھل ہوتا ہے، تب کوئی فالوور، کوئی سبسکرائبر، کوئی لائیک دلاسہ دینے نہیں آتا۔ یہ ہجوم شور تو بہت کرتا ہے، مگر دل کی خاموشی نہیں سنتا۔

یاد کیجیے وہ وقت جب کسی عزیز کا خط آتا تھا۔ لفافہ کھولنے سے پہلے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی، اور ہر لفظ میں اپنائیت کی خوشبو ہوتی تھی۔ آج نوٹیفکیشن آتا ہے: “Your package has been delivered” اور ہم خوش ہو جاتے ہیں کہ شاپنگ کامیاب رہی، چاہے دل خالی ہی کیوں نہ ہو۔ اب انتظار کو وقت کا ضیاع اور صبر کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ہم ہر چیز فوراً چاہتے ہیں، حتیٰ کہ جذبات بھی۔

اسکرین نے ہمیں وہ سب کچھ دکھایا جو ہم دیکھنا چاہتے تھے، مگر وہ چھپا لیا جو ہمیں دیکھنا چاہیے تھا۔ اب ہر چہرہ فلٹر شدہ ہے، ہر بات ایڈیٹ شدہ، اور ہر احساس ایموجی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہم نے اسکرین کی روشنی میں اپنے اندر کی تاریکی کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اپنی اصل کو اتنا چھپا لیا ہے کہ اگر کبھی خود سے سامنا ہو جائے تو شاید پہچان بھی نہ سکیں۔

کبھی بزرگوں کی باتیں سننا فخر کی بات ہوا کرتی تھی۔ آج “پرانی سوچ” کہہ کر دانائی کو اَن فالو کر دیا جاتا ہے۔ تجربہ “اوور ایج” اور حکمت “آؤٹ ڈیٹڈ” قرار پا چکی ہے، جیسے انسان بھی کسی ایپ کی طرح صرف اپ ڈیٹ کے بعد ہی قابلِ قبول ہو۔

ہم نے فطرت کو چھوڑ کر “فیس” کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ پہلے درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر باتیں ہوتی تھیں، اب کافی شاپ میں بیٹھ کر فون چیک کیے جاتے ہیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کی جگہ نوٹیفکیشن کی بیپ نے لے لی ہے، اور سورج کی روشنی کو اسکرین کی برائٹ نیس سے بدل دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی جڑے ہوئے ہیں؟ یا پھر ہم ایک ڈیجیٹل سراب میں، اپنے اپنے جزیروں پر تنہا کھڑے ہیں؟ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوبارہ کتابوں کے صفحات پلٹیں، فطرت کے رنگوں کو آنکھوں سے دیکھیں، اور سب سے بڑھ کر، اپنے آس پاس موجود انسانوں کی خاموش کہانیوں کو سنیں۔ کیونکہ آخرکار، انسانوں کی ضرورت انسانوں کو ہی رہے گی، چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے۔

اور اگر آپ یہ سب پڑھ کر بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ “اسے شیئر کروں یا نہیں؟”
تو جناب، پہلے کسی کو گلے لگا لیجیے۔
شاید وہ آپ کے ریپلائی سے زیادہ آپ کی حقیقی موجودگی کا منتظر ہو۔

Leave a reply