جب قانون بھی طاقتور کے قدموں میں بیٹھ جائے

یہ ملک عجیب تضادات کا مسکن ہے۔ یہاں عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، مگر عادتیں نہیں جاتیں۔ کبھی کوئی منصب پر ہوتا ہے تو خود کو قانون سمجھنے لگتا ہے، اور جب منصب چھن جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قانون اب بھی وہیں کھڑا ہے—بس دیر سے۔
حالیہ برسوں میں پہلی بار ایسا منظر دکھائی دیا کہ طاقت کے چند مضبوط قلعوں میں دراڑ پڑی۔ ایک فوجی افسر اور ایک عدالتی منصب رکھنے والے شخص کے خلاف فیصلہ آیا۔ برسوں سے یہ تاثر جمایا گیا تھا کہ وردی ہو یا کالا کوٹ، احتساب اس کے آس پاس بھی نہیں پھٹکتا۔ یہ تاثر مکمل طور پر نہیں ٹوٹا، مگر اس میں شگاف ضرور پڑا ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی نہیں کہ ہمارے ہاں ادارے افراد کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ کچھ لوگ قانون کی کتاب نہیں پڑھتے تھے، بلکہ خود کو کتاب سمجھ بیٹھتے تھے۔ فیصلے کمرۂ عدالت کے بجائے کسی اور جگہ سے آتے، اور انصاف ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا۔ یہ وہ دور تھا جب عدالتیں کم اور طاقت کے تھیٹر زیادہ لگتی تھیں۔
کچھ شخصیات ایسی بھی گزریں جن کا اندازِ حکم رانی عدل سے زیادہ دھونس پر مبنی تھا۔ کبھی کسی ماتحت کی تذلیل، کبھی کسی طاقتور ملزم کیلئے خصوصی نرمی، کبھی کسی سیاسی مہم میں غیر اعلانیہ شرکت—یہ سب کچھ ہمارے اجتماعی حافظے میں محفوظ ہے۔ یہ سب کہانیاں بہت پرانی نہیں، صرف اتنی پرانی ہیں جتنی ہماری یادداشت اجازت دیتی ہے۔
وقت بدلا، چہرے بدلے، مگر روایتیں پوری طرح نہیں بدلیں۔
آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کمزور کیلئے قانون کا ترازو بھاری ہوتا ہے اور طاقتور کیلئے ہلکا۔ کسی مظلوم کو انصاف مل جائے تو اسے استثنا سمجھا جاتا ہے، معمول نہیں۔ بعض فیصلے ایسے آتے ہیں جو صرف ایک فرد کو نہیں، پورے معاشرے کو زخمی کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ فیصلے جن میں متاثرہ کو ہی کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے—یہ صرف قانونی نہیں، اخلاقی ناکامی بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جگہ ایک جیسے لوگ نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی کسی بنچ پر کوئی ایک آواز ایسی بھی اٹھتی ہے جو اختلاف کرتی ہے، سوال پوچھتی ہے، اور یہ یاد دلاتی ہے کہ عدل ابھی مکمل طور پر مرا نہیں۔ ایسی آوازیں کم ہیں، مگر قیمتی ہیں۔
دوسری طرف دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نئی معیشتوں کے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آنے والا وقت خوشحالی کا ہوگا، غربت کم ہوگی، مواقع بڑھیں گے۔ یہ باتیں اپنی جگہ، مگر ہمارا مسئلہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں، انصاف کی کمی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وسائل پر قابض کون ہے۔
یہاں غربت کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک منظم نظام کا حاصل ہے۔ اشرافیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے، اور عام آدمی مزید دب رہا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر عالمی اصول آ کر رک جاتے ہیں، جیسے سرحد پر ویزا لگ گیا ہو۔
یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان میں کچھ سائنسی اصول بھی لاگو نہیں ہوتے—خاص طور پر وہ جو سماجی انصاف، جوابدہی اور برابری سے متعلق ہوں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی ایک فرد پکڑا گیا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا نظام بنا پائیں گے جہاں عہدہ ڈھال نہ بنے، اور انصاف تاخیر کا شکار نہ ہو؟ جہاں قانون واقعی اندھا ہو—اندھا طاقت سے، دولت سے اور تعلق سے؟
جب تک یہ نہیں ہوتا، تب تک ہر فیصلہ محض ایک واقعہ رہے گا، تبدیلی نہیں۔
اور ہم کالم لکھتے رہیں گے، یادداشت تازہ کرتے رہیں گے، اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی دن یہ سب صرف تاریخ نہ رہے—بلکہ سبق بن جائے۔








