پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے لگی، ماہرین نے ری چارج ویلز کو ناگزیر قرار دے دیا

0
7
پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے لگی، ماہرین نے ری چارج ویلز کو ناگزیر قرار دے دیا

پنجاب میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ہر سال بڑی مقدار میں بارش کا پانی ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ لاہور سمیت کئی شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کر کے دوبارہ زمین میں جذب کرنے کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔
آبی وسائل کے ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی، پانی کی طلب، کنکریٹ کا پھیلاؤ، نہروں اور دریاؤں میں پانی کی کمی اور ٹیوب ویلز کے زیادہ استعمال کے باعث زیرِ زمین آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ان کے مطابق رین واٹر ہارویسٹنگ، ری چارج ویلز، ری چارج پٹس، بائیو سویلز اور زیرِ زمین فلٹریشن سسٹمز کے ذریعے بارش کے پانی کو دوبارہ زمین میں پہنچایا جائے تو زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے مسائل میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ بعض تعلیمی اور ماحولیاتی اداروں نے ایسے منصوبے نصب کیے ہیں جن کے تحت عمارتوں کی چھتوں اور کھلے مقامات سے جمع ہونے والا بارش کا پانی فلٹر کرنے کے بعد زیرِ زمین ذخائر میں واپس پہنچایا جاتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کی مقدار کے ساتھ ساتھ اس کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ صنعتی فضلہ، گھریلو سیوریج، زرعی ادویات اور دیگر آلودگی پیدا کرنے والے عناصر پانی کو آلودہ کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں صاف پانی کی دستیابی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور رہائشی منصوبوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ اور ری چارج ویلز کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ مختلف رہائشی علاقوں میں اجتماعی ری چارج ویلز تعمیر کیے جائیں تاکہ بارش کےپانی کوضائع ہونےسےبچایاجا سکے۔
دوسری جانب واسا لاہور بھی زیرِ زمین پانی کی بحالی کے لیے ری چارج ویلز اور بارشی پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق شہر میں چند جدید ری چارج ویلز فعال ہیں اور آئندہ مرحلے میں مزید ویلز تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت شہر بھر میں بڑی تعداد میں ری چارج ویلز قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں اضافہ اور شہری سیلاب کے خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

Leave a reply