اگر باب المندب بھی بند ہوگیا تو کیا دنیا ایک نئے معاشی طوفان کے دہانے پر کھڑی ہے؟

اگر باب المندب بھی بند ہوگیا تو کیا دنیا ایک نئے معاشی طوفان کے دہانے پر کھڑی ہے؟

تحریر:نور فاطمہ

تصور کریں… ایک صبح دنیا جاگتی ہے اور خبر آتی ہے کہ صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ چند گھنٹوں میں تیل کی قیمتیں اچھلنا شروع ہو جاتی ہیں، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بے چینی پھیل جاتی ہے، جہاز اپنے راستے بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور دنیا بھر میں مہنگائی کے نئے طوفان کی پیش گوئیاں ہونے لگتی ہیں۔

یہ کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر نہیں بلکہ ایک ایسا خدشہ ہے جس پر عالمی ماہرین، شپنگ کمپنیاں اور توانائی کی منڈیاں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

باب المندب اور آبنائے ہرمز دنیا کی دو ایسی سمندری گزرگاہیں ہیں جنہیں عالمی معیشت کی “شہ رگیں” کہا جاتا ہے۔ ایک خلیج فارس سے نکلنے والے تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، جبکہ دوسرا بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک پہنچنے والی عالمی تجارت کا مرکزی دروازہ۔ اگر ان میں سے ایک بھی متاثر ہو جائے تو دنیا میں ہلچل مچ جاتی ہے، لیکن اگر دونوں بیک وقت دباؤ میں آ جائیں تو اس کے اثرات ہر ملک، ہر صنعت اور ہر صارف تک پہنچ سکتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر خطے میں فوجی دباؤ میں اضافہ ہوا تو یمن کے حوثی باب المندب میں جہاز رانی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی بحیرہ احمر میں حملوں کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنا راستہ تبدیل کیا تھا، جس سے سامان کی ترسیل مہنگی اور سست ہو گئی تھی۔

اگر باب المندب غیر محفوظ ہو جاتا ہے تو دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کو افریقہ کے جنوبی کنارے، یعنی کیپ آف گڈ ہوپ، کے طویل اور مہنگے راستے سے سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب صرف چند اضافی دن نہیں بلکہ اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات، ایندھن کی زیادہ کھپت اور عالمی سپلائی چین میں شدید خلل ہوگا۔

اس بحران کا سب سے پہلا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ توانائی کی منڈی میں معمولی خدشہ بھی قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے، جبکہ دو اہم بحری راستوں میں بیک وقت کشیدگی خام تیل کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ اس کے بعد مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک، ادویات، الیکٹرانکس اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے ایسی صورت حال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ باب المندب کی مکمل اور طویل بندش کوئی آسان معاملہ نہیں۔ بین الاقوامی بحری افواج، بڑی طاقتیں اور خطے کے ممالک اس راستے کو کھلا رکھنے میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ اسی لیے بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کشیدگی ضرور بڑھ سکتی ہے، لیکن مکمل بندش کا امکان اب بھی غیر یقینی ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ جدید دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ آج ایک تنگ سمندری راستے میں پیدا ہونے والی کشیدگی ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کی جیب، روزگار اور زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں دباؤ کا شکار ہوئے تو یہ صرف مشرق وسطیٰ کا بحران نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایک ایسا امتحان بن سکتا ہے جس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس معاشی طوفان کو آنے سے پہلے روک پائیں گی، یا دنیا ایک نئے اور زیادہ گہرے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے؟

Leave a reply