پاکستان میں صحافت خطرے میں، تحفظ کی راہیں کہاں ہیں؟

پاکستان میں صحافت خطرے میں، تحفظ کی راہیں کہاں ہیں؟

تحریر:

پاکستان میں صحافت ایک مشکل اور خطرناک پیشہ بنتا جا رہا ہے۔ سچ لکھنے، طاقتور حلقوں سے سوال کرنے اور عوامی مسائل اجاگر کرنے کی قیمت اکثر صحافیوں کو دھمکیوں، تشدد، مقدمات اور حتیٰ کہ جان کے نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ پاکستان میں پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں صحافیوں کی حفاظت کو کیسے یقینی بنا سکتی ہیں؟

سب سے پہلے، ادارہ جاتی مضبوطی ناگزیر ہے۔ اکثر پریس کلبز صرف تقریبات اور بیانات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ انہیں ایک فعال حفاظتی پلیٹ فارم بننا چاہیے۔ ہر پریس کلب میں ایک لیگل ایڈ اور پروٹیکشن سیل قائم کیا جانا چاہیے جو دھمکیوں، حملوں یا ہراسانی کی صورت میں فوری قانونی معاونت فراہم کرے۔ وکلا کے ساتھ مستقل روابط صحافیوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن سکتے ہیں۔

دوسرا اہم پہلو اجتماعی آواز ہے۔ جب کسی ایک صحافی کو نشانہ بنایا جائے تو اگر پوری برادری خاموش رہے تو حملہ آوروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ پریس کلبز اور یونینز کو ذاتی وابستگیوں اور ادارتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔ احتجاج، علامتی واک آؤٹ، اور منظم مہمات صحافیوں کے تحفظ کے لیے دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

تیسرا، ریاستی اداروں سے مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ صحافتی تنظیمیں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور پارلیمان کے ساتھ باضابطہ مکینزم تشکیل دیں تاکہ صحافیوں کے خلاف جرائم کی فوری رپورٹنگ اور پیروی ہو سکے۔ صحافیوں کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد کے لیے نگرانی کمیٹیاں بنانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہو سکتا ہے۔

چوتھا، ڈیجیٹل اور فزیکل سیکیورٹی ٹریننگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں خطرات صرف میدانِ عمل تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا ہراسانی، سائبر حملے اور آن لائن نگرانی بھی سنگین مسائل ہیں۔ پریس کلبز کو صحافیوں کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اور اپنے ذرائع کی حفاظت کر سکیں۔

پانچواں، فلاحی اور ہنگامی امدادی نظام کا قیام بھی ضروری ہے۔ حملے کا شکار صحافی یا ان کے اہلِ خانہ اکثر مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک شفاف ویلفیئر فنڈ نہ صرف فوری مدد فراہم کر سکتا ہے بلکہ صحافیوں کو یہ احساس بھی دلا سکتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

آخر میں، یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ صحافیوں کا تحفظ صرف بیانات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے سنجیدہ عزم، مستقل جدوجہد اور ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں۔ اگر پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں واقعی صحافت کو بچانا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے صحافی کو محفوظ بنانا ہوگا۔ کیونکہ جب صحافی محفوظ ہوگا، تب ہی سچ محفوظ رہے گا۔

Leave a reply