آگ لگی تھی یا نظام جل رہا تھا؟

سانحات صرف عمارتیں نہیں جلاتے، وہ ریاستی نظام کے ان حصوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جو برسوں سے غفلت، بے حسی اور جواب دہی کے فقدان کے پردے میں چھپے رہتے ہیں۔ کراچی کا گل پلازہ سانحہ بھی محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں تھا؛ یہ شہری انتظام، فائر سیفٹی، تعمیراتی نگرانی اور ہنگامی امداد کے پورے نظام کا امتحان تھا، جس میں ریاستی ادارے کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔
تحقیقاتی رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اس نے ذمہ داری کسی ایک محکمے یا فرد تک محدود کرنے کے بجائے ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کی نشاندہی کی جس میں متعدد ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے۔ عمارت کے فائر سیفٹی نقائص کی نشاندہی پہلے ہی ہو چکی تھی، اس کے باوجود اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے۔ دکانوں کی تعداد منظور شدہ نقشے سے زیادہ تھی اور عمارت میں بڑی مقدار میں آتش گیر سامان موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ نگرانی کرنے والے ادارے اس صورتِ حال سے بے خبر کیسے رہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی عمارت کو خطرناک قرار دینا کافی نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب خطرے کی نشاندہی کے بعد عملی قدم اٹھایا جائے۔ اگر معائنے ہوتے رہیں، رپورٹس بنتی رہیں، نقائص کی نشاندہی ہوتی رہے لیکن عمارت اسی حالت میں چلتی رہے تو پھر یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی بن جاتی ہے۔
سانحے کے دوران فائر بریگیڈ کے ردعمل نے بھی کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ امدادی کارروائی شروع ہونے میں تاخیر، پانی کی دستیابی کے مسائل اور جدید ریسکیو آلات کی کمی نے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے مشکلات بڑھا دیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اگر کسی جلتی ہوئی عمارت کے اندر سے مدد کے لیے آوازیں آ رہی ہوں اور باہر موجود امدادی ادارے مطلوبہ آلات سے محروم ہوں تو اس صورتِ حال کو محض بدقسمتی نہیں کہا جا سکتا۔
اسی طرح عمارت کی بجلی منقطع کرنے کے فیصلے، ہنگامی اعلان کے نظام کے مؤثر استعمال نہ ہونے اور لوگوں کو بروقت خطرے سے آگاہ نہ کرنے جیسے معاملات بھی توجہ طلب ہیں۔ جدید شہری انتظام میں چند منٹ بھی قیمتی ہوتے ہیں۔ کسی ہنگامی صورتِ حال میں ایک درست فیصلہ درجنوں زندگیاں بچا سکتا ہے اور ایک غلط یا تاخیر سے کیا گیا فیصلہ تباہی کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی اداروں، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو نظام سمیت متعدد اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: کراچی جیسے بڑے شہر میں شہری تحفظ کا نظام اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور واضح جواب دہی کے بغیر نہیں چل سکتا۔
ماضی کے سانحات بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔ کراچی میں صنعتی اور تجارتی عمارتوں میں آتش زدگی کے متعدد واقعات کے بعد بھی اگر وہی مسائل دوبارہ سامنے آئیں—فائر سیفٹی کی خلاف ورزی، ہنگامی راستوں کی کمی، امدادی آلات کی قلت، پانی کی عدم دستیابی اور فائر بریگیڈ کی تاخیر—تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ماضی سے کوئی قابلِ ذکر سبق نہیں سیکھا۔
ریسکیو 1122 کے قیام سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ صوبے میں ہنگامی امداد کا نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا۔ لیکن کسی ادارے کا قیام بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا۔ کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ بحران کے وقت وہ ادارہ کتنی تیزی، کتنی تیاری اور کتنی پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ شہریوں کی جان بچاتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی سامنے آتا ہے: تحقیقاتی رپورٹ کے بعد جواب دہی کہاں ہے؟
اگر ایک تحقیقاتی عمل میں متعدد اداروں کی ناکامی سامنے آتی ہے تو اگلا مرحلہ محض رپورٹ کو فائل میں رکھ دینا نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ کن افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی، کن اداروں میں اصلاحات کی جائیں گی اور آئندہ ایسے حادثات کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
سیاسی حکومتوں کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماتحت اداروں کی ناکامی پر پردہ ڈالتی ہیں یا احتساب کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ کسی افسر کو قربانی کا بکرا بنانا بھی کافی نہیں؛ اصل ضرورت پورے نظام کی اصلاح ہے۔ اسی طرح صرف عہدے سے ہٹانا بھی احتساب کا مکمل متبادل نہیں، جب تک یہ واضح نہ ہو کہ غفلت کیا تھی، کس سطح پر ہوئی اور آئندہ اسے کیسے روکا جائے گا۔
گل پلازہ کے سانحے کو محض ایک افسوسناک واقعہ سمجھ کر بھلا دینا متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس حادثے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ شہریوں کی جان کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ فائر سیفٹی قوانین، عمارتوں کے معائنے، ہنگامی راستے، فائر بریگیڈ کی استعداد، ریسکیو آلات اور اداروں کے باہمی رابطے جیسے معاملات کاغذی کارروائی نہیں بلکہ انسانی زندگی اور موت کا سوال ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سندھ تحقیقاتی رپورٹ کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے اصلاحات کا نقطۂ آغاز بنائے۔ خطرناک عمارتوں کا جامع آڈٹ ہو، فائر سیفٹی قوانین پر بلاامتیاز عمل کرایا جائے، فائر بریگیڈ کو جدید آلات اور مناسب وسائل فراہم کیے جائیں، ریسکیو اداروں کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور ذمہ داری کے تعین کے لیے شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ مستقبل کے کسی حادثے کے بعد پھر یہ سوال نہ اٹھے کہ ذمہ دار کون تھا۔
کیونکہ جب ادارے ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھاتے رہیں اور کوئی شخص یا محکمہ اپنی ذمہ داری قبول نہ کرے تو متاثرین کے اہل خانہ کے لیے انصاف کا راستہ مزید طویل ہوجاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مرنے والوں کی تعداد گننا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ اموات دوبارہ نہ ہوں۔
گل پلازہ کے متاثرین کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ اس سانحے کو ایک اور فائل، ایک اور رپورٹ اور ایک اور وعدے تک محدود نہ کیا جائے۔ اسے کراچی کے شہری تحفظ کے پورے نظام کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔
ورنہ کل کسی اور عمارت سے اٹھتا ہوا دھواں پھر یہی سوال کرے گا: اس تباہی کا ذمہ دار آخر کون ہے؟









