مینڈیٹ کی جیت، میرٹ کی ہار

ہماری سیاست میں دو الفاظ بہت کثرت سے سنائی دیتے ہیں: مینڈیٹ اور میرٹ۔
مینڈیٹ عوام کے ووٹ سے آتا ہے اور میرٹ قابلیت، اہلیت اور حق داری کا نام ہے۔ اصولی طور پر دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے محافظ ہونے چاہئیں۔ لیکن ہمارے ہاں کبھی کبھی صورتِ حال ایسی بن جاتی ہے کہ مینڈیٹ اقتدار کی چابی تو بن جاتا ہے، مگر میرٹ دروازے کے باہر کھڑا رہ جاتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختیار کو ذمہ داری کے بجائے انعام سمجھ لیا جائے۔ پھر عہدے قابلیت کے مطابق نہیں بلکہ تعلقات کے مطابق تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ کسی کو وزارت ملتی ہے، کسی کو مشاورت، کسی کو محکمہ، کسی کو ترقیاتی منصوبہ اور کسی کو ایسی جگہ جہاں فیصلے کرنے کا اختیار ہو۔ یوں حکومت ایک انتظامی نظام کم اور ذاتی حلقۂ احباب زیادہ دکھائی دینے لگتی ہے۔
ایک دفتر کا قصہ سنیے۔ چند خالی اسامیاں تھیں۔ امیدواروں کے انٹرویو ہوئے، نمبر لگے، فہرست بنی اور پانچ بہترین امیدوار سامنے آگئے۔ کمیٹی نے سمجھا کہ اب کام ختم ہوا۔ اچانک ایک بااثر شخصیت کی سفارش آگئی کہ ایک اور امیدوار کو بھی شامل کیا جائے۔
کمیٹی کے سامنے عجیب مسئلہ تھا۔ پانچ نشستیں تھیں اور پانچ اہل امیدوار۔ اضافی آدمی کہاں سے آتا؟
بالآخر ایک صاحب نے بڑی سنجیدگی سے حل پیش کیا:
“چھٹی جگہ تو بن نہیں سکتی، پانچ میں سے ایک کو نکال دیتے ہیں۔”
یوں مسئلہ حل ہوگیا۔
نہ نشست بڑھی، نہ میرٹ۔ صرف میرٹ والا امیدوار کم ہوگیا۔
یہی ہمارے نظام کا المیہ ہے۔ ہم اکثر قانون کو نہیں توڑتے، صرف اس کی روح کو اتنا موڑ دیتے ہیں کہ وہ پہچانی نہیں جاتی۔
تاریخ میں فاتح جب کسی شہر پر قبضہ کرتے تھے تو سب سے پہلے خزانے پر نظر پڑتی تھی۔ پھر بڑے عہدے، جاگیریں اور اہم مقامات تقسیم ہوتے تھے۔ اس کے بعد عام سپاہیوں کا حصہ آتا تھا۔ فتح کے بعد اعلان البتہ ہمیشہ بڑا خوبصورت ہوتا تھا: امن قائم ہوگا، انصاف ہوگا، عوام محفوظ ہوں گے اور نئی حکومت سب کے لیے برابر ہوگی۔
زمانہ بدل گیا، مگر انسانی کمزوریاں اتنی نہیں بدلیں۔
آج تلواروں کی جگہ انتخابی نشان ہیں، لشکروں کی جگہ سیاسی جماعتیں اور میدانِ جنگ کی جگہ انتخابی حلقے۔ فتح کے بعد بھی اصل سوال یہی رہتا ہے کہ اقتدار کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟
سب سے پہلے طاقت کے قریب موجود لوگ اپنے حصے تلاش کرتے ہیں۔ پھر ان کے دوست، ساتھی، رشتہ دار اور سیاسی کارکن یاد آتے ہیں۔ اس کے بعد ان لوگوں کی باری آتی ہے جنہوں نے مشکل وقت میں وفاداری دکھائی تھی۔ میرٹ اگر کہیں بچ جائے تو اسے خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے۔
سرکاری نوکریاں اس تقسیم کا شاید سب سے حساس میدان ہیں۔ ایک امیدوار برسوں پڑھتا ہے، امتحان دیتا ہے، انٹرویو کی تیاری کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اگر وہ اہل ہے تو اسے موقع ملے گا۔ دوسری طرف کسی دوسرے شخص کے پاس شاید ایک فون نمبر ہو۔
ایک طرف قابلیت ہے، دوسری طرف رابطہ۔
ایک طرف امتحان ہے، دوسری طرف سفارش۔
ایک طرف انتظار ہے، دوسری طرف اختیار۔
اور جب دونوں آمنے سامنے آتے ہیں تو اکثر میرٹ کو بتایا جاتا ہے کہ “آپ کی قابلیت اپنی جگہ، مگر حالات کچھ اور تقاضا کرتے ہیں۔”
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ صرف ایک نوکری نہیں کھوتا، اعتماد کھوتا ہے۔
جو نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ اس کی محنت کسی سفارش سے کمزور ہے، وہ صرف ایک عہدے سے محروم نہیں ہوتا؛ اس کے اندر نظام کے بارے میں ایک مستقل بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ پوچھتا ہے کہ اگر فیصلہ پہلے ہی ہونا ہے تو امتحان کیوں؟ اگر سفارش ہی کافی ہے تو میرٹ لسٹ کیوں؟ اگر تعلق ہی اصل قابلیت ہے تو قابلیت کی پیمائش کیوں؟
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ نعرے بدلتے ہیں، منشور بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں۔ مگر اگر نظام میں یہ بنیادی رویہ قائم رہے کہ اقتدار ملتے ہی اپنے لوگوں کو نوازنا اولین ترجیح ہے، تو تبدیلی صرف کیلنڈر پر آتی ہے، نظام میں نہیں۔
مینڈیٹ یقیناً اہم ہے۔ عوام جسے منتخب کریں، اسے حکومت کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ لیکن مینڈیٹ میرٹ ختم کرنے کا لائسنس نہیں۔ عوام کا ووٹ حکومت کو اختیار دیتا ہے، اختیار کو من مانی نہیں۔
ایک مضبوط حکومت وہ نہیں جو زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لے؛ مضبوط حکومت وہ ہے جو اپنے حامی اور مخالف دونوں کے لیے ایک ہی اصول قائم رکھے۔
اگر کسی عہدے کے لیے بہترین امیدوار حکمران جماعت کا مخالف ہے تو اسے بھی منتخب ہونا چاہیے۔ اور اگر حکمران کا قریبی ساتھی اس عہدے کے لیے اہل نہیں تو اسے بھی انتظار کرنا چاہیے۔
کیونکہ ریاست رشتہ داری سے نہیں، اصول سے چلتی ہے۔
ورنہ ہر انتخابات کے بعد فاتح بدلتے رہیں گے، مگر شکست ہمیشہ ایک ہی کی ہوگی:
میرٹ کی۔
اور جب میرٹ بار بار ہارتا ہے تو آخرکار قابلیت ملک چھوڑ دیتی ہے، نوجوان مایوس ہوجاتے ہیں اور ادارے اندر سے کھوکھلے ہونے لگتے ہیں۔
مینڈیٹ کو عزت دیجیے، مگر میرٹ کو قربان کرکے نہیں۔
اقتدار کا اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ نے اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؛ اصل امتحان یہ ہے کہ آپ نے اپنے لوگوں کے باوجود اصول کے لیے کیا کیا۔









