ابوظبی نے تہران سے منہ کیوں موڑ لیا؟

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ہر کوشش اس وقت تک کمزور دکھائی دیتی ہے جب تک خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد قائم نہ ہو۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی حالیہ صورتحال اسی حقیقت کی ایک نئی مثال ہے۔
کچھ عرصہ پہلے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ تہران اور ابوظبی کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تجارت بحال ہونے لگی، سفری روابط میں بہتری آئی اور دونوں جانب سے براہِ راست تصادم سے گریز کے اشارے ملے۔ مگر یہ نازک پیش رفت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
اگست میں متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات معطل کرنے کا اعلان کیا۔ ابوظبی کا مؤقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی کے خدشات نے اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ دوسری طرف ایران نے امارات کی جانب سے اپنے اوپر لگائے گئے میزائل حملے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔
یہ معاملہ صرف دو ملکوں کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں۔ ایران اور امارات کے درمیان تجارت طویل عرصے سے اہم رہی ہے، اور دبئی ایران کے لیے عالمی تجارت اور مالیاتی نظام تک رسائی کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس لیے اقتصادی روابط میں اچانک رکاوٹ ایران کے لیے بھی قابلِ ذکر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اصل مسئلہ آبنائے ہرمز ہے
موجودہ بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کی توانائی کی تجارت کے لیے یہ سمندری راستہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں معمولی کشیدگی بھی تیل، گیس، شپنگ اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے حوالے سے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ اماراتی حکام نے اپنے مفادات سے وابستہ بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے اور ایک ٹینکر کے پکڑے جانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
ایسی صورتحال میں خلیجی ممالک کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو سمندری تجارت اور توانائی کی عالمی سپلائی کس حد تک متاثر ہوگی؟
معاشی تعلقات بھی سفارت کاری کا حصہ ہیں
ایران اور امارات کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاست اور معیشت کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تجارتی روابط ایک طرف انہیں ایک دوسرے کا معاشی شراکت دار بناتے ہیں، مگر دوسری طرف یہی انحصار سیاسی بحران کے وقت دباؤ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
امارات کا موجودہ فیصلہ ایران کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کو محدود کرتا ہے، جبکہ خود اماراتی کاروباری حلقوں کے لیے بھی خطے میں غیر یقینی پیدا کرتا ہے۔
کیا دوبارہ مذاکرات کا راستہ کھلے گا؟
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بتاتی ہے کہ طویل جنگیں اکثر کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی میز تک پہنچتی ہیں۔ ایران اور امارات کے معاملے میں بھی یہی امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
لیکن مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ میزائلوں، بحری جہازوں، پابندیوں اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات پر مسلسل الزام تراشی فریقین کو مزید دور لے جا سکتی ہے۔
اگر خلیجی ممالک اپنے اقتصادی مراکز اور سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنے ہوں گے۔ دوسری طرف ایران کے لیے بھی یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایسے اقدامات کرے جن سے خوف اور عدم تحفظ کم ہو۔
خطے کے لیے بڑا سبق
ایران اور امارات کے درمیان موجودہ بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، تجارت، سفارت کاری اور علاقائی مکالمے سے قائم ہوگا۔
آج ایک تجارتی راستہ بند ہوتا ہے، کل ایک سمندری راستہ خطرے میں پڑ سکتا ہے اور پرسوں عالمی منڈی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے خلیج کی کشیدگی کو محض دو ملکوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت ایک اور جنگ سے زیادہ ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جس میں اختلافات کو میزائلوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش موجود ہو۔
خلیج کا امن صرف ایران اور امارات کی ضرورت نہیں؛ یہ پوری دنیا کی معاشی ضرورت ہے۔









