
بارشوں کے موسم میں عام طور پر لوگ مچھروں اور آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، تاہم ماہرین صحت کے مطابق دفاتر بھی جراثیم، وائرس اور فنگس کے پھیلاؤ کی بڑی جگہ بن سکتے ہیں۔
مون سون کے دوران دفاتر میں روزانہ کی آمدورفت، بند کمروں، لفٹوں، مشترکہ میزوں، آفس کچن اور میٹنگ رومز میں قریبی رابطہ مختلف انفیکشنز کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ نمی، ہوا کی ناقص نکاسی اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں بھی بیماریوں کے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں۔
دفتر میں پھیلنے والی عام بیماریاں
موسمی فلو
فلو چھینکنے، کھانسنے اور متاثرہ سطحوں کو چھونے سے دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کی عام علامات میں بخار، جسم میں درد، گلے کی تکلیف اور تھکن شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہاتھوں کی صفائی، بہتر وینٹیلیشن اور بیماری کی حالت میں دفتر آنے سے گریز اس خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
کووڈ 19
اگرچہ کووڈ 19 کی ہنگامی حیثیت ختم ہو چکی ہے، لیکن وائرس اب بھی موجود ہے۔ بخار، کھانسی یا گلے میں درد کی صورت میں احتیاط کرنا، ضرورت کے مطابق ماسک استعمال کرنا اور ویکسین سے متعلق ہدایات پر عمل کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آنکھوں کے انفیکشن
وائرل آشوب چشم متاثرہ شخص کے ہاتھوں یا مشترکہ اشیا کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ آنکھوں میں سرخی، پانی آنا، خارش، جلن اور سوجن اس کی عام علامات ہیں۔
معدے کی بیماریاں
دفتر کے کچن یا مشترکہ کھانے پینے کی اشیا میں صفائی کا خیال نہ رکھنے سے معدے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیٹ درد، قے، اسہال، بخار اور جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
جلدی فنگس
بارش کے موسم میں گیلی جرابیں، نم جوتے اور زیادہ نمی جلد پر فنگس پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے خارش، سرخ نشان اور جلد کے متاثر ہونے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
لیپٹو اسپائروسس
یہ بیماری عام طور پر آلودہ پانی کے رابطے سے پھیلتی ہے، خاص طور پر ایسے پانی سے جو جانوروں کے فضلے سے متاثر ہو۔ اس کی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد، سر درد، آنکھوں کی سرخی، قے اور بعض سنگین صورتوں میں یرقان شامل ہو سکتا ہے۔
دفاتر میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی وجوہات
ماہرین کے مطابق میز پر کھانا کھانا، ذاتی اشیا یا پانی کی بوتلیں شیئر کرنا، مشترکہ کمپیوٹر یا آلات استعمال کرنے کے بعد چہرے کو چھونا، بند کمروں میں خراب ہوا کی آمدورفت اور بیماری کے باوجود دفتر آنا انفیکشنز کے پھیلاؤ کو بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بارش براہ راست بیماریوں کی وجہ نہیں بنتی، بلکہ نمی، بند ماحول، خراب وینٹیلیشن اور مشترکہ استعمال کی چیزیں جراثیم کی منتقلی کو آسان بنا دیتی ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ ہاتھ صاف رکھیں، بیمار ہونے کی صورت میں آرام کریں، دفتر کے ماحول کو صاف رکھیں، ذاتی اشیا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔









