یوکرین پر حملے کی مکمل تیاری، ایران نے آخری وقت میں فیصلہ بدل دیا

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے سینئر کمانڈر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر رکھی تھی، تاہم یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ حملے کے لیے تمام انتظامات مکمل تھے، لیکن معذرت کے بعد منصوبہ واپس لے لیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یوکرین نے کس معاملے پر معذرت کی اور نہ ہی ممکنہ اہداف کی تفصیلات فراہم کیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی کہا کہ ایران اپنی مقررہ سمندری گزرگاہ کے علاوہ کسی اور راستے سے بحری جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دے گا، اور اگر کوئی دشمن جہاز غیر قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
محسن رضائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے امریکی افواج کو نقصان پہنچا اور ان کے فوجی مقاصد متاثر ہوئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اس سے قبل یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کر چکا ہے۔ ایران کے مطابق اس حملے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا تھا، جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یوکرین سے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا تھا۔
تاحال یوکرین نے محسن رضائی کے حالیہ دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔









