دنیا کی بدبودار ترین غذاؤں میں جنوبی ایشیا کا مشہور مسالا بھی شامل

0
105
دنیا کی بدبودار ترین غذاؤں میں جنوبی ایشیا کا مشہور مسالا بھی شامل

جنوبی ایشیائی کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا معروف مسالا ہینگ دنیا کی تیز بو والی غذاؤں اور غذائی اجزا کی تازہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ہینگ، جو فیروولا نامی پودے کی جڑ سے حاصل ہونے والی خشک گوند ہے، دالوں، سبزیوں، سالن، اچار اور مختلف مصالحہ جات میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ کچی حالت میں اس کی بو خاصی تیز ہوتی ہے، تاہم گرم تیل یا گھی میں پکنے کے بعد یہ کھانوں کو منفرد ذائقہ اور خوشبو فراہم کرتا ہے۔
عالمی فوڈ گائیڈ TasteAtlas کی جاری کردہ فہرست میں ہینگ کے علاوہ سویڈن کی خمیر شدہ مچھلی، آئس لینڈ کی روایتی خمیر شدہ شارک، گرین لینڈ کی خمیر شدہ غذا، مختلف اقسام کے تیز بو والے پنیر، ڈوریان پھل، چین کا سینچری ایگ اور جاپان کی روایتی غذا ناٹو بھی شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق ان غذاؤں کی تیز بو کے باوجود ان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ ماضی میں خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے خمیر کرنے، نمک لگانے اور دیگر روایتی طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔ یہی طریقے وقت کے ساتھ مختلف خطوں کی روایتی غذاؤں کا حصہ بن گئے۔
ہینگ آج بھی خاص طور پر ایسے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں مذہبی یا دیگر وجوہات کی بنا پر پیاز اور لہسن شامل نہیں کیے جاتے، اور پکنے کے بعد یہ اپنی منفرد خوش ذائقگی کے باعث جنوبی ایشیائی باورچی خانوں کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔

Leave a reply