سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، طلبہ کا احتجاج بدستور جاری

0
16
سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، طلبہ کا احتجاج بدستور جاری

نئی دہلی: بھارت میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا، تاہم طلبہ کی جانب سے جاری احتجاجی مہم بدستور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سونم وانگچک نے بتایا کہ انہوں نے وفاقی وزرا کی موجودگی، ارکان پارلیمنٹ کی اپیلوں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات وہ بعد میں جاری کریں گے۔

طلبہ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ رواں سال ہونے والے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے لاکھوں امیدوار متاثر ہوئے، جبکہ اس معاملے نے ملک بھر میں طلبہ کےغصے کومزید بڑھا دیا ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی اور وفاقی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کےاستعفی کا مطالبہ کر رہےہیں۔

تحریک کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے باوجود احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا ہے کہ حکومت امتحانات کے نظام میں بہتری اور امیدواروں کے خدشات دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔

حکومت کی جانب سے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف خصوصی اقدامات اور مقدمات کی جلد سماعت کے لیے نظام بنانے کی بات کی گئی ہے، تاہم مظاہرین کا مؤقف ہے کہ صرف کارروائی کافی نہیں بلکہ بار بار ہونیوالے لیکس کے بنیادی اسباب کوختم کرنا ضروری ہے۔

احتجاج کے دوران نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں سکیورٹی سخت کی گئی جبکہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر مظاہرین کی جانب سے اہلکاروں پر اشیا پھینکی گئیں، جبکہ مظاہرین نے پولیس کارروائی پر اعتراضات اٹھائے۔

سیاسی جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے، جبکہ سماجی حلقوں میں یہ معاملہ نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور امتحانی نظام سے متعلق بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی، مگر وقت کے ساتھ ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر گئی۔ مبصرین کے مطابق نوجوانوں میں امتحانات کے حوالے سے اعتماد کی بحالی اور شفاف نظام کا قیام اس احتجاج کا مرکزی مطالبہ ہے۔

Leave a reply