بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

0
19
بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور باب المندب کے گرد سیکیورٹی خدشات نے عالمی تیل کی سپلائی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکا اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے پیشِ نظر تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس سے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر مرتب ہوں گے۔
حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ جولائی کے دوران قیمتوں میں تیز رفتار بڑھوتری دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی اس وقت خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ادھر امریکی حکام نے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی سفارتی رابطوں کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہ ہونے کے باوجود رابطوں کے غیر رسمی ذرائع موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

Leave a reply