اسرائیل کو تسلیم کرو، پھر جوہری معاہدہ لو! ٹرمپ کا دوٹوک اعلان

0
9
اسرائیل کو تسلیم کرو، پھر جوہری معاہدہ لو! ٹرمپ کا دوٹوک اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون کے معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت ممکن ہوگی جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے ابراہام معاہدے میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا۔
حالیہ دنوں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کے ایک معاہدے پر امریکی وزیر توانائی اور سعودی وزیر توانائی نے دستخط کیے، تاہم اس معاہدے کو نافذ ہونے سے قبل امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ صرف پرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کی منظوری کو سعودی عرب کی جانب سے ابراہام معاہدے میں شمولیت سے مشروط کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ کے اس مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امن کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے اس نئی شرط پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ریاض اس سے قبل متعدد مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تعلقات معمول پر لانے کا انحصار ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر ہے۔
یہ سول جوہری تعاون کئی برسوں سے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان زیرِ بحث تھا، تاہم مختلف سیاسی اور سفارتی عوامل کے باعث معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا تھا۔
ادھر اسرائیل کے بعض سابق حکام نے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر سعودی عرب کو مستقبل میں یورینیم افزودگی کی گنجائش ملتی ہے تو اس سے خطے میں اسٹریٹجک توازن اور سلامتی سے متعلق نئے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے توانائی کے شعبے میں شراکت داری مضبوط ہوگی، معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

Leave a reply