جیب خالی ہو تو کیا زندگی بھی سستی ہے؟

پاکستان میں مہنگائی پر بہت بات ہوتی ہے۔ بجلی کے بل، پٹرول کی قیمت، گیس کے نرخ اور ٹیکسوں کا شور ہر طرف سنائی دیتا ہے، مگر ایک ایسا خاموش بحران بھی ہے جس نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، اور وہ ہے علاج کی بڑھتی ہوئی قیمت۔
سوچیے…
اگر آپ کے بچے کو آدھی رات کو تیز بخار ہو جائے، والد کو ہارٹ اٹیک آ جائے یا گھر میں کسی کا اچانک ایکسیڈنٹ ہو جائے، تو کیا آپ کی پہلی فکر مریض کی جان ہوگی یا اسپتال میں جمع کرائی جانے والی ایڈوانس رقم؟
یہ سوال آج لاکھوں پاکستانیوں کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
ایک عام نجی اسپتال میں صرف ڈاکٹر سے ملاقات کی فیس چار سے پانچ ہزار روپے ہے۔ اس کے بعد ٹیسٹ، ادویات، ڈرپس، انجیکشن اور دیگر اخراجات الگ۔ اگر مریض کو چند گھنٹے کے لیے ایمرجنسی میں رکھا جائے تو بل ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔
سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات علاج شروع ہونے سے پہلے ہی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جان کی قیمت بینک بیلنس سے کم ہو چکی ہے؟
سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی کہانیاں سامنے آتی ہیں جنہیں سن کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ کوئی باپ اپنے بچے کا علاج نہ کرا سکا، کوئی بزرگ دوائیں خریدنے سے محروم رہا، کوئی مریض صرف اس لیے زندگی ہار گیا کہ اس کے پاس بروقت رقم موجود نہیں تھی۔
یہ صرف انفرادی سانحات نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔
متوسط طبقہ سب سے زیادہ پس رہا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ اتنا غریب ہے کہ ہر سرکاری امداد کا مستحق ٹھہرے، اور نہ اتنا امیر کہ نجی اسپتالوں کے لاکھوں روپے کے بل آسانی سے ادا کر سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ بیماری کو نظر انداز کرتے ہیں، خود علاج کرتے ہیں یا غیر مستند طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سماجی انصاف کا سوال بھی ہے۔
اس بحران کا حل ناممکن نہیں۔
پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہر سرکاری اور نجی اسپتال کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ ایمرجنسی مریض کا علاج فوری شروع کرے۔ ادائیگی کا معاملہ بعد میں طے کیا جائے۔ اگر مریض واقعی مالی طور پر مجبور ہو تو حکومت یا خصوصی ہیلتھ فنڈ اس کی ادائیگی کرے۔
دوسرا قدم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ حکومت ایک ایسا قومی آن لائن طبی پلیٹ فارم قائم کرے جہاں رجسٹرڈ ڈاکٹر ابتدائی مشورہ مفت یا انتہائی کم فیس پر فراہم کریں۔ اس سے اسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوگا اور لاکھوں شہری غیر ضروری اخراجات سے بچ سکیں گے۔
اسی پلیٹ فارم پر مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ محفوظ کیا جا سکتا ہے، دواؤں کی قیمتوں میں شفافیت لائی جا سکتی ہے اور ضرورت مند افراد کو کم قیمت پر ادویات گھر تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے بلند و بالا اسپتال نہیں بلکہ وہ نظام ہوتا ہے جہاں کسی انسان کی جان اس کی مالی حیثیت کی محتاج نہ ہو۔
جب ایک شہری بیماری سے زیادہ اسپتال کے بل سے خوفزدہ ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف معیشت کا نہیں، انسانیت کا بھی ہے۔
اب فیصلہ حکومت، صحت کے اداروں اور معاشرے سب کو کرنا ہے۔
کیا پاکستان میں علاج ایک بنیادی حق ہوگا… یا صرف اُن لوگوں کی سہولت جو اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟









