پیدائش سے پہلے جینیاتی بیماریوں کے علاج کی نئی امید

0
33
پیدائش سے پہلے جینیاتی بیماریوں کے علاج کی نئی امید

سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید جین ایڈیٹنگ تکنیک پر تحقیق کی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں بعض موروثی بیماریوں کو انسانی جنین میں پیدائش سے پہلے درست کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ابھی تحقیقی مرحلے میں ہے اور عام طبی استعمال کے لیے منظور نہیں ہوئی۔
اس تحقیق میں بیس ایڈیٹنگ (Base Editing) نامی طریقہ استعمال کیا گیا، جو روایتی CRISPR-Cas9 کے مقابلے میں زیادہ باریک اور درست تبدیلیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی مدد سے ڈی این اے کے مخصوص حصے میں محدود تبدیلی کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ضروری جینیاتی تبدیلیوں کا خطرہ کم ہونے کی توقع ہے۔
ابتدائی تجربات میں سائنسدانوں نے انسانی جنین میں ایسے جینیاتی نقائص کو درست کرنے کی کوشش کی جو مستقبل میں بعض موروثی بیماریوں، مثلاً خون کی کچھ بیماریوں، دل کے امراض یا بینائی سے متعلق مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم یہ تجربات صرف تحقیق تک محدود رہے اور ان جنین سے بچے پیدا نہیں کیے گئے۔
اگر مستقبل میں یہ طریقہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہو جاتا ہے تو اس سے کئی موروثی بیماریوں کی نسل در نسل منتقلی کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے طبی استعمال سے پہلے اس کی حفاظت، مؤثریت اور طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق ضروری ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ اہم اخلاقی سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہوا تو اسے صرف بیماریوں کے علاج کے بجائے بچوں کی ظاہری یا دیگر خصوصیات تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے سماجی عدم مساوات اور نئے اخلاقی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ انسانی جنین کو حمل کے لیے استعمال کرنے پر قانونی پابندیاں موجود ہیں، اور موجودہ تحقیق کے مصنفین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی کلینیکل استعمال کے لیے تیار نہیں۔

Leave a reply