نیٹو کا بڑا دفاعی فیصلہ، امریکی بوئنگ کے بجائے سویڈن کے گلوبل آئی طیاروں کا انتخاب

نیٹو نے اپنے فضائی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے سویڈن کی دفاعی کمپنی صاب کے “گلوبل آئی” طیارے منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 4.5 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جس کے تحت اتحاد زیادہ سے زیادہ 10 جدید نگرانی اور قبل از وقت وارننگ فراہم کرنے والے طیارے حاصل کرے گا۔
یہ نئے طیارے سرد جنگ کے دور سے استعمال ہونے والے ایواکس (AWACS) طیاروں کی جگہ لیں گے۔ جدید ریڈار اور نگرانی کی صلاحیتوں سے لیس یہ پلیٹ فارم ڈرون حملوں سمیت نئے فضائی خطرات کی نشاندہی اور نگرانی میں مدد فراہم کریں گے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے مطابق اس منصوبے کا مقصد آئندہ کئی دہائیوں تک اتحاد کی فضائی نگرانی اور دفاعی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ مرکزی نظام سویڈن کی کمپنی صاب تیار کرے گی، تاہم اس میں یورپ، امریکا اور کینیڈا کی مختلف صنعتیں بھی شریک ہوں گی۔
گلوبل آئی کا مقابلہ امریکی کمپنی بوئنگ کے E-7 Wedgetail طیارے سے تھا، تاہم نیٹو نے سویڈش پلیٹ فارم کو ترجیح دی۔ اتحاد کی جانب سے انتخاب کی مکمل تکنیکی وجوہات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
اس فیصلے کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر نیٹو اتحادیوں پر امریکی دفاعی سازوسامان خریدنے اور دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور دیتے رہے ہیں۔
اعلان کے بعد صاب کے حصص کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو میکائل جوہانسن کے مطابق اگر معاہدہ جلد مکمل ہو گیا تو 2030 سے طیاروں کی فراہمی شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طیارے کی متوقع قیمت 400 سے 450 ملین ڈالر کے درمیان ہوگی، جبکہ حتمی تعداد اور قیمت کا تعین مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان طیاروں میں دورانِ پرواز ایندھن بھرنے کی سہولت موجود نہیں ہوگی، تاہم مستقبل میں اس صلاحیت کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ موجودہ ایواکس طیارے یہ سہولت رکھتے ہیں، جو طویل دورانیے کے آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔








